
بعض حضرات نے بیرونِ ملک ایک انجمن بنائی ہے۔ اس انجمن میں ہر شخص ماہانہ خوشی سے 100 درہم جمع کرتا ہے۔ پھر اس فنڈ سے ان اشخاص کے ساتھ تعاون کیا جاتا ہے جنہوں نے پیسے جمع کیے ہوں۔ اس انجمن کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص وہاں مر جائے تو اس کی لاش لانے پر جو خرچہ ہوتا ہے، وہ اسی فنڈ سے ادا کیا جاتا ہے، اور اگر کوئی اپنے گاؤں آ جائے اور چھ مہینے کے اندر مر جائے تو اس کے ورثاء کو دس ہزار درہم دیے جاتے ہیں۔تو پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس غرض کے لیے اس طرح پیسے جمع کرنا اور پھر اس طرح مدد کرنا جائز ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ اگر واقعۃً کوئی ایسی رفاہی انجمن یا کمیٹی قائم کی جائے جس میں مخیر حضرات از خود، فی سبیل اللہ چندہ دیں، کسی فرد کو چندہ دینے پر مجبور نہ کیا جائے، تو اس کی گنجائش ہے۔ یہ انجمن یا کمیٹی خاندان کے ضرورت مند لوگوں کی ضروریات کی کفالت کرے، بے روزگار افراد کے لیے روزگار کا انتظام کرے، غریب و نادار بچیوں کی شادی اور دیگر ضروریات میں ضرورت مندوں کی مدد کرے۔ان امور کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ اگر یہ کمیٹی یا انجمن خاندان کے کسی فرد کی موت کے بعد اس کی تجہیز و تکفین پر آنے والے اخراجات بھی اپنے ذمہ لے، قطع نظر اس بات کے کہ کس نے چندہ دیا اور کس نے نہیں دیا، تو یہ شرعاً درست ہے۔لیکن صورتِ مسئولہ میں جب صرف انجمن کے ممبران کو ہی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، اور اگر گاؤں میں چھ ماہ کے اندر انتقال ہو جائے تو دس ہزار درہم ان ہی کے ورثاء کو ملتے ہیں، تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس انجمن کی بنیاد ’’امدادِ باہمی‘‘ پر نہیں، بلکہ اس کا مقصد ہر ممبر کو اس کی جمع کردہ رقم کے بدلے سہولیات فراہم کرنا یا مرنے کی صورت میں ورثاء کو رقم دلانا ہے۔
لہٰذا درج ذیل شرعی قباحتوں کی بنیاد اس کا اس حصہ بنناجائز نہیں:
1: ہر ممبر کو اس کی جمع کردہ رقم کے بدلے جو سہولیات فراہم ہوتی ہیں، وہ اس کی جمع کردہ رقم کی نسبت سے کبھی کم اور کبھی زیادہ ہو سکتی ہیں۔ یہ معاملہ واضح طور پر قمار (جوا) کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ نیز گاؤں میں مرنے کی صورت میں جو دس ہزار درہم دیے جاتے ہیں، ان میں سود بھی پایا جاتا ہے، جو کہ حرام ہے۔
2: انجمن کے ممبران میں بعض اوقات ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اتنی وسعت اور استطاعت نہیں رکھتے کہ ماہانہ سو درہم بھی ادا کر سکیں، لیکن خاندانی یا معاشرتی رواداری کی خاطر، یا لوگوں کی باتوں سے بچنے کے لیے وہ مجبوراً یہ رقم جمع کراتے ہیں۔ یوں وہ رقم تو جمع کرا دیتے ہیں، لیکن اس میں خوش دلی کا عنصر مفقود ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ مال استعمال کرنے والے کے لیے حلالِ طیب نہیں ہوتا، کیوں کہ حدیثِ شریف میں ہے کہ کسی مسلمان کا مال دوسرے مسلمان کے لیے صرف اس کی دلی خوشی اور رضامندی کی صورت میں حلال ہے۔
3: اگر چندہ دینے والا صاحبِ نصاب ہو تو اس رقم پر زکوٰۃ کی ادائیگی بھی لازم ہوگی، حالانکہ انجمن میں کوئی شخص بھی اپنی جمع کرائی گئی رقم سے زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، جو کہ شرعاً گناہِ کبیرہ ہے۔
مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:
"وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا لا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه. رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."
(کتاب البیوع، باب الغصب والعارية، الفصل الثانی،رقم الحدیث:2946، ج:2،ص:889، ط:المکتب الإسلامي،بیروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص."
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:403، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100979
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن