بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بھاگ کر شادی کرنے والی لڑکی سے قطع تعلق کرنےکا حکم


سوال

ایک عاقلہ و بالغہ لڑکی نے اپنی مرضی سے گھر سے بھاگ کر شادی کر لی، اب اس کے والدین اور بھائی نہ صرف اسے اپنے گھر آنے سے روک رہے ہیں، بلکہ اس کے ماں، باپ اور بہن بھائیوں سے ملاقات سے بھی انکاری ہیں۔
شریعت کی روشنی میں والدین اور بھائیوں کا لڑکی کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھنا کیسا ہے؟ اور اس سلسلے میں شریعت کیا رہنمائی فراہم کرتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بالغہ لڑکی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے نکاح کی ذمہ داری اپنے ولی کے سپرد کرے،  پس  والدین کی مرضی کے بغیر بھاگ کر پسند کا نکاح کرنا شرعاً، عرفاً اور اخلاقاً نہایت نامناسب عمل ہے،  جس سے گریز کرنا چاہیے، تاہم اگر کسی لڑکی نے والدین کی مرضی کے بغیر ایسا کرلیا، اور شرعی ضابطہ کے مطابق گواہوں کی موجودگی میں لڑکا اور لڑکی نے ایجاب و قبول کرلیا ہو تو اس صورت میں چوں کہ  نکاح شرعًا منعقد ہوجاتا ہے،  جس کے بعد دونوں ایک دوسرے کے لئے حلال ہوجاتےہیں، اور نکاح منعقد ہو جانے کے بعد دونوں کا ساتھ رہنا موجب ملامت نہیں رہتا، اور  نہ ہی قطع تعلق کا باعث ہوتا ہے،البتہ اگر لڑکی نے غیر کفو میں نکاح کیا ہو،تو بچہ کی پیدائش  سے پہلے پہلے تک والد کو بذریعہ عدالت نکاح فسخ کرانے کا شرعاًحق حاصل ہوتاہے۔

لہذا صورتِ  مسئولہ میں  مذکورہ  لڑکی کا طرز عمل بداخلاقی پر مبنی تھا، لیکن  لڑکی  اگر اپنے کیے پر نادم وشرمندہ ہو اور معافی مانگ رہی ہو تو اس  سے والدین اور دیگر بھائیوں او ربہنوں  کا قطع تعلق کرنا شرعاًجائز نہیں  ہوگا۔شریعت قطع تعلقی کی اس حد تک اجاز ت دیتی ہے جب تک انسان گناہ پر قائم ہو،اگر اس نے گناہ چھوڑیاتو اس کے بعد اس سے قطع تعلقی کرنا شرعاًجائز  نہیں ہوتا ،مسئولہ صورت میں چھپ کرنکاح کرنا اگر چہ ناپسندیدہ عمل ہے،تاہم گناہ نہیں کہ جس کی بناء پر قطع تعلقی کی شرعاًاجازت ہو ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله ولاية ندب) أي يستحب للمرأة تفويض أمرها إلى وليها كي لاتنسب إلى الوقاحة بحر"

( كتاب النكاح، باب الولي، ج: 3، ص: 55، ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - آخرا وقول محمد - رحمه الله تعالى - آخرا أيضا حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك ولكن للأولياء حق الاعتراض وروى الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أن النكاح لا ينعقد وبه أخذ كثير من مشايخنا رحمهم الله تعالى، كذا في المحيط والمختار في زماننا للفتوى رواية الحسن وقال الشيخ الإمام شمس الأئمة السرخسي رواية الحسن أقرب إلى الاحتياط، كذا في فتاوى قاضي خان في فصل شرائط النكاح وفي البزازية ذكر برهان الأئمة أن الفتوى في جواز النكاح بكرا كانت أو ثيبا على قول الإمام الأعظم وهذا إذا كان لها ولي فإن لم يكن صح النكاح اتفاقا، كذا في النهر الفائق "

( كتاب الطلاق، الباب الخامس في الأكفاء في النكاح، ج:1، ص:292، ط: دار الفكر، بيروت)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"قال: وأجمع العلماء على أن من خاف من مكالمة أحد وصلته ما يفسد عليه دينه أو يدخل مضرة في دنياه يجوز له مجانبته وبعده، ورب صرم جميل خير من مخالطة تؤذيه. وفي النهاية: يريد به الهجر ضد الوصل، يعني فيما يكون بين المسلمين من عتب وموجدة، أو تقصير يقع في حقوق العشرة والصحبة دون ما كان من ذلك في جانب الدين، فإن هجرة أهل الأهواء والبدع واجبة على مر الأوقات ما لم يظهر منه التوبة والرجوع إلى الحق، فإنه صلى الله عليه وسلم لما خاف على كعب بن مالك وأصحابه النفاق حين تخلفوا عن غزوة تبوك أمر بهجرانهم خمسين يوما، وقد هجر نساءه شهرا وهجرت عائشة ابن الزبير مدة، وهجر جماعة من الصحابة جماعة منهم، وماتوا متهاجرين، ولعل أحد الأمرين منسوخ بالآخر.

قلت: الأظهر أن يحمل نحو هذا الحديث على المتواخيين أو المتساويين، بخلاف الوالد مع الولد، والأستاذ مع تلميذه، وعليه يحمل ما وقر من السلف والخلق لبعض الخلف، ويمكن أن يقال الهجرة المحرمة إنما تكون مع العداوة والشحناء، كما يدل عليه الحديث الذي يليه، فغيرها إما مباح أو خلاف الأولى".

( كتاب الآداب، باب ما ينهى عنه في التهاجر والتقاطع واتباع العورات، ج: 8، ص: 3147، ط: دار الفكر - بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100630

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں