بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1448ھ 28 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیر طلاق کے میاں بیوی کا ایک دوسرے سے الگ ہونے کی صورت میں نکاح کا حکم


سوال

دو سال قبل میری اور میری بیوی کی لڑائی ہوگئی، لڑائی کے بعد سے اب تک دو سال ہوگئے کہ وہ مجھ سے الگ رہ رہی ہے میرے ایک بیٹے کے ساتھ، اب ہم ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا اس الگ رہنے کی وجہ سے طلاق ہوئی یا نہیں؟

وضاحت: لڑائی کے دوران میں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی تھی بلکہ وہ ایسے ہی مجھ سے الگ ہوکر بیٹے کے پاس رہنے لگی۔

جواب

صورت مسئولہ میں جب آپ نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی اور وہ لڑائی کے بعد الگ ہوکر بیٹے کے پاس رہنے لگی، تو محض دو سال علیحدہ رہنے سے شرعاً  نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا اور نہ ہی کوئی طلاق واقع ہوئی بلکہ وہ بدستور آپ کی بیوی ہے، اس لیے ایک ساتھ رہناشرعاً جائز ہے ۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"كتاب الطلاق (هو) لغة رفع القيد وشرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق."

( كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 227، ط: سعيد)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"(أما تفسيره) شرعا فهو رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص كذا في البحر الرائق."

( كتاب الطلاق، ج: 1، ص: 348، ط: رشيديه)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144801102409

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں