
دو سال قبل میری اور میری بیوی کی لڑائی ہوگئی، لڑائی کے بعد سے اب تک دو سال ہوگئے کہ وہ مجھ سے الگ رہ رہی ہے میرے ایک بیٹے کے ساتھ، اب ہم ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس الگ رہنے کی وجہ سے طلاق ہوئی یا نہیں؟
وضاحت: لڑائی کے دوران میں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی تھی بلکہ وہ ایسے ہی مجھ سے الگ ہوکر بیٹے کے پاس رہنے لگی۔
صورت مسئولہ میں جب آپ نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی اور وہ لڑائی کے بعد الگ ہوکر بیٹے کے پاس رہنے لگی، تو محض دو سال علیحدہ رہنے سے شرعاً نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا اور نہ ہی کوئی طلاق واقع ہوئی بلکہ وہ بدستور آپ کی بیوی ہے، اس لیے ایک ساتھ رہناشرعاً جائز ہے ۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"كتاب الطلاق (هو) لغة رفع القيد وشرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق."
( كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 227، ط: سعيد)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"(أما تفسيره) شرعا فهو رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص كذا في البحر الرائق."
( كتاب الطلاق، ج: 1، ص: 348، ط: رشيديه)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144801102409
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن