
ہمارے ایک چچا ہیں جو کسی کام کاج میں مشغول نہیں تھے، ہم اپنے کاروبار کی آمدنی سے ان کو ماہانہ خرچہ دیا کرتے تھے۔اس کاروبار میں سرمایہ ہمارے والد صاحب نے لگایا تھا۔
اب وہ ہم سے اس کاروبار میں حصہ کا مطالبہ کر رہے ہیں،کیا شریعت کی رو سے ان کا حق بنتا ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ اس کاروبار میں نہ تو اس چچا نے کوئی سرمایہ لگایا ہے اور نہ ہی دادا نے۔اور ہمارے والد صاحب حیات ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی اس کاروبار میں سائل کے چچا کا کوئی سرمایہ شامل نہیں ہے اور نہ ہی دادا کا سرمایہ لگا ہے، تو شرعاً اس کاروبار میں سائل کے چچا کا حصہ نہیں بنتا، اب تک بھتیجوں کی جانب سے جو خرچ دیا جاتا رہا ہے، وہ ان کی طرف سے تبرع اور احسان تھا۔ آئندہ بھی اگر وہ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں، تاہم چچا کے لیے شرعاً حق کے طور پر اس کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔
حدیث میں ہے:
"لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه."
”(ترجمہ) کسی مسلمان کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر حلال نہیں“۔
(کنز العمال، حرف الهمزة، الكتاب الأول من حرف الهمزة، الباب الأول، الفصل الرابع، الفرع الثاني،1/ 92، ط:مؤسسة الرسالة)
درر الحكام شرح مجلة الاحكام العدلیہ میں ہے:
"لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي هذه القاعدة مأخوذة من المجامع وقد ورد في الحديث الشريف «لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا فإن أخذه فليرده".
(المقدمة، المادۃ:97، ج:1، ص:98، ط:دار الجیل)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144706101866
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن