بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیر شرعی عذر شوہر کا گھر چھوڑنے والی بیوی کے نان و نفقہ کا شرعی حکم


سوال

ہمارے ایک عزیز ہیں، جن کی پسند کی شادی کو چار سال ہو چکے ہیں، اور ان کے ہاں تین سال کی ایک بیٹی بھی ہے۔ ان کی بیوی بغیر کسی شرعی عذر کے شوہر سے ناراض رہتی ہے۔ چند روز قبل تقریباً پندرہ دن کی خاموشی کے بعد، ایک رات ساڑھے بارہ بجے اُس کی بیوی نے اپنے بہنوئی کو بلایا، جس پر شوہر اور ساس سسر سب حیران رہ گئے۔

بہنوئی نے آ کر کہا کہ یہ (یعنی عزیز کی بیوی) اب اس گھر میں نہیں رہیں گی۔ ساس سسر نے بہت سمجھایا، مگر بہو نے ایک نہ سنی اور بیٹی کو لے کر بہنوئی کے ساتھ چلی گئی۔ بیوی کا کوئی بھائی نہیں ہیں، صرف ایک شادی شدہ بہن اور بوڑھے والدین ہیں۔

ان کے والدین یا کسی اور قریبی رشتہ دار نے اب تک کوئی رابطہ نہیں کیا۔ ہماری فیملی کی چند خواتین نے بھی بہو سے بات کی اور اُسے بہت سمجھایا، مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔

اب تقریباً 40 دن کے بعد معلوم ہوا ہے کہ بیوی نے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، اور طلاق یا خلع چاہتی ہے۔ بات اب وکیلوں تک پہنچ چکی ہے، اور وہ نان و نفقہ کا مطالبہ کر رہی ہے۔

اب مسئلہ نان نفقہ کا ہے۔ ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ اگر عورت بغیر کسی شرعی عذر کے خود شوہر کا گھر چھوڑ دے، تو شرعی طور پر اس کے لیے نان و نفقہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہوتا، البتہ بیٹی کے مناسب ماہانہ خرچے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔

اس سلسلے میں ہماری شرعی راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کی عزیز کی بیوی کا بغیر کسی شرعی جواز کے اپنے شوہر سے خود بخود  ناراض   ہوکراس کی اجازت و رضامندی کے بغیر اپنے  غیر محرم بہنوئی کے ساتھ سسرال سے چلی جانا شرعًا درست نہیں تھا۔ اور  شرعا وہ ناشزہ (نافرمان ) کے حکم میں ہے،چنانچہ جب تک وہ اپنے شوہر کے گھر لوٹ نہیں آتی شریعت کی رو سے وہ نان و نفقہ کی حق دار نہیں ،اورنہ ہی اس  کامطالبہ کرسکتی ہے۔ اسی طرح اگر وہ بذریعہ عدالت  شوہر سےخلع یا طلاق لے لیتی ہے تب بھی وہ نان و نفقہ کی حق دار نہیں ہوگی، الّا یہ کہ وہ عدت شوہر کے گھر گزارے گی تو نان و نفقہ کی حق دار ہوگی۔

باقی بہر صورت بچی کا نان و نفقہ (یعنی اس کے کھانے پینے، کپڑے  اور دیگر ضروریات کا خرچہ اور اسی طرح اس کی تعلیم و تربیت اور شادی وغیرہ کا خرچہ) والد کی حیثیت کے مطابق اس  کے ذمّہ ہے۔

مجمع الأنہر میں ہے:

"(ولا نفقة لناشزة) أي عاصية ما دامت على تلك الحالة ثم وصفها على وجه الكشف فقال (خرجت) الناشزة (من بيته) خروجا حقيقيا أو حكميا (بغير حق) وإذن من الشرع قيد به؛ لأنها لو خرجت بحق..... ولم يفعل لم تكن ناشزة."

(كتاب الطلاق، باب النفقة، ج:1، ص:488، ط:دار إحياء التراث العربي بيروت)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(لا) نفقة لأحد عشر: مرتدة، ومقبلة ابنه، ومعتدة موت ومنكوحة فاسدا وعدته،..... و(خارجة من بيته بغير حق) وهي الناشزة حتى تعود ولو بعد سفره خلافا للشافعي، والقول لها في عدم النشوز بيمينها، وتسقط به المفروضة لا المستدانة في الأصح كالموت، قيد بالخروج؛ لأنها لو مانعته من الوطء لم تكن ناشزة."

(کتاب الطلاق، باب النفقة، ج:3، ص:576، ط:ايج ايم سعید)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة..... الذكور من الأولاد إذا بلغوا حد الكسب، ولم يبلغوا في أنفسهم يدفعهم الأب إلى عمل ليكسبوا، أو يؤاجرهم وينفق عليهم من أجرتهم وكسبهم، وأما الإناث فليس للأب أن يؤاجرهن في عمل، أو خدمة كذا في الخلاصة.... ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة."

(کتاب الطلاق، الفصل الرابع في نفقة الأولاد، ج:1، ص:563،560، ط:المکتبة الرشیدیة كوئته)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101338

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں