بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیر معاہدہ کے بھائی کے ساتھ کاروبار کرنے سے شریک نہیں بنے گا۔


سوال

نیو سبزی منڈی میں کرایہ کی دکان پر سبزی کا میرا اپنا ذاتی کاروبار ہے، اس میں کسی اور کا کوئی پیسہ  نہیں لگاہے، سارا پیسہ میں نے ہی لگایا ہے، نفع و نقصان کا ذمہ دارمیں ہی ہوں، یہ کاروبا میں نے ذاتی رقم سے شروع کیا تھا،اور میرا ایک  بھائی میرے ساتھ دکان پر کام کرتاہے،  اس سے نہ شراکت کا کوئی معاہدہ ہوا اور نہ ہی مزدوری کا،بلکہ میرے ساتھ دکان پر بغیر کسی معاہدہ کے کام کرتا ہے۔ میں اس کو یومیہ ایک ہزار اور گھر کا خرچہ  دیتا ہوں، لیکن اب یہ کہہ رہا ہے کہ مجھے زیادہ   دو، باقی گھر کا چھوٹا بڑاخرچہ میں ہی دیتا ہوں، توکیا بھائی کا کاروبار میں سے حصہ کا مطالبہ کرنا درست ہے؟ کیا میرے ذاتی کاروبار میں اس کا حصہ بنتا ہے؟

اور( یہ دکان میری  ذاتی ہے) والد صاحب کی بھی سبزی منڈی میں ایک دکان ہے جو کہ بند پڑی ہے، اور تقریبا دس سا ل پہلے والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے۔

میرا بھائی اپنی رضامندی سے میری دکان پر کام کر رہا تھا، کسی اور جگہ وہ کام کرنا چاہے تو چلا جائے میں نے اس کو زبردستی نہیں رکھا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں  سائل نے جو کاروبار اپنی ذاتی رقم سے شروع کیا ہے اور سائل کے بھائی نے اس کاروبار میں کوئی سرمایہ  نہیں لگایااور  شرکت یا اجارہ کا  معاہدہ کیےبغیر   سائل کے ساتھ  کام کرتارہا توسائل کی طرف سےاپنے بھائی کو دیے جانے والا یومیہ 1000 ہزار روپے  اور گھر کے اخراجات تبرع شمار ہوں گے،اور سائل کے بھائی کا کام کرنا معاونت شمار ہوگااورسائل  کا بھائی سائل کے   ساتھ  کام کرنے کی وجہ سے اس کاروبار میں سائل کا شریک نہیں  سمجھا جائے گا۔لہذاسائل کے بھائی کا اس کاروبار سے بطورِ شریک کے حصے کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے۔

البتہ اگر سائل  کا بھائی یومیہ1000 روپے پر کام کرنے پر تیار نہ ہوتو باہمی رضامندی سےباقاعدہ سائل کے ساتھ اجارہ کا عقد کرکے یومیہ ملنے والی رقم سے زیادہ  کا مطالبہ کرسکتا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(هي) بكسر فسكون في المعروف لغة الخلط، سمي بها العقد لأنها سببه. وشرعا (عبارة عن عقد بين المتشاركين في الأصل والربح) جوهرة."

(کتاب الشركة، ج:4، ص:298، ط؛ سعيد)

فتاوی ہندیہ میں  ہے:

"(وأما) (ركنها) فالإيجاب والقبول بالألفاظ الموضوعة في عقد الإجارة."

(کتاب الاجارة، ج:4، ص:409، ط:رشيدية)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100635

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں