
میں نے اپنے والدین سے چھپ کر ایک شیعہ لڑکے سے نکاح کیا۔ نکاح کے وقت صرف میں، وہ لڑکا اور مولوی صاحب موجود تھے، ان کے علاوہ کوئی اور گواہ نہیں تھا۔ یہ نکاح میں نے چار ماہ پہلے کیا تھا، اور ڈیڑھ ماہ تک میں اس کے ساتھ رہی۔ پچھلے پندرہ دن سے ہم علیحدہ ہو چکے ہیں۔ جب میں اس کے ساتھ رہ رہی تھی تو اس نے ہمارے خلفائے ثلاثہ (حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان رضی اللہ عنہم) کو نہیں مانا، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بھی طعن و تشنیع کرتا تھا۔
1۔اب میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا میرا نکاح صحیح ہوا تھا یا نہیں؟
2۔اور اگر نکاح نہیں ہوا تو کیا میرے اوپر عدت واجب ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ اگر کوئی شیعہ قرآن مجید میں تحریف، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خدا ہونے، یا جبرئیل امین سے وحی پہنچانے میں غلطی کا عقیدہ رکھتاہو، یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرتاہو، یا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتاہو، یا بارہ اماموں کی امامت من جانب اللہ مان کر ان کو معصوم مانتاہو یا اللہ تعالیٰ کے بارے میں '' بدا'' کا عقیدہ رکھتاہو (یعنی -نعوذباللہ- کبھی اللہ تعالیٰ سے بھی فیصلے میں خطا ہوجاتی ہے) تو ایسا شیعہ اسلام کے بنیادی عقائد کی مخالفت کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہوگا، اور ایسے شیعہ کے ساتھ مسلمان کا نکاح جائز نہیں ہوگا، خواہ وہ شیعہ لڑکی ہو اور مسلمان لڑکا اس سے نکاح کرے۔
اسی طرح شرعًا نکاح منعقد ہونے کے لیے دو عاقل بالغ مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرناشرط ہے۔اگر گواہوں کی موجودگی کے بغیر کسی نے ایجاب و قبول کر لیا تو ایسے ایجاب و قبول سے نکاح منعقد نہیں ہوتا،لہذا ان شرائط کے بغیر نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا ایسے دونوں افراد ایک دوسرے کے لیے بدستور اجنبی ہی رہتے ہیں۔
پس صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ لڑکااوپر ذکر کردہ عقائد رکھتا ہو تو اس سے سائلہ کا نکاح منعقد نہیں ہوا،اور اگر مذکورہ عقائد نہ بھی رکھتا ہوتب بھی مذکورہ نکاح میں دو گواہوں کے روبرو ایجاب وقبول نہیں کیا گیا تھا،لہذا مذکورہ نکاح شرعًانکاح منعقد ہی نہیں ہوا تھا، اس لیے ان دونوں کاساتھ رہنا ہرگز جائز نہیں تھا، اور ان دونوں پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ واستغفار کریں۔
2۔علیحدگی اختیار کرنے کے بعد سائلہ پر عدت گزارنا لازم ہوگا،پس سائلہ اگر حاملہ نہ ہو، تو اس کی عدت مکمل تین ماہواریاں ہوگی، ، اور حاملہ ہونے کی صورت میں بچہ کی پیدائش تک عدت گزارنا ضروری ہوگا۔
حاشیہ ابن عابدين میں ہے:
"وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر ؛ لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل علياً أو يسب الصحابة ؛ فإنه مبتدع لا كافر، كما أوضحته في كتابي '' تنبيه الولاة والحكام علی أحكام شاتم خير الأنام أو أحد الصحابة الكرام عليه وعليهم الصلاة والسلام."
(كتاب النكاح،فصل في المحرمات، ج:3، ص:46، ط:سعید)
فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:
"سوال: میرا مذہب سنی ہے اور میں نے ایک شیعہ کی دختر سے نکاح کیا ہےیہ نکاح صحیح اور جائز ہے یا نہیں؟
جواب :روافض میں وہ لوگ جو غالی ہیں مثلًا حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کے افک کے قائل ہیں وہ باتفاق کافر ہیں اور جو روافض سب شیخین کرتے ہیں ان کے کفر میں اختلاف ہے بہر حال احتیاط اس میں ہے کہ اس عورت کو سنیہ کر کے پھر نکاح کیا جائے کیوں کہ کافرہ عورت کا نکاح مسلمان سنی سے نہیں ہوسکتا۔ فقط ۔"
(کتاب النکاح، بعنوان سنی لڑکی کا نکاح شیعہ عورت سے جائز نہیں ، ج:7، ص:330، ط:دار الاشاعت)
مصنف عبد الرزاق میں ہے:
" عن عبد الله بن محرر، عن قتادة، عن الحسن، عن عمران بن الحصين قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا نكاح إلا بولي وشاهدي عدل."
(كتاب النكاح، باب النكاح بغير ولي، ج:6، ص:196، ط:المجلس العلمي- الهند)
ترجمہ:"حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔"
فتح القدیر شرح الہدایہ میں ہے:
" (ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف).
(قوله ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور إلخ) احتراز عن غير المسلمين إذ سيأتي أن أنكحة الكفار بغير الشهود صحيحة إذا كانوا يدينون بذلك. وقوله بحضور لا يوجب السماع وهو قول جماعة منهم القاضي علي السغدي، ونقل عن أبواب الأمان من السير الكبير أنه يجوز وإن لم يسمعوا، وعلى هذا جوزوه بالأصمين والنائمين، والصحيح اشتراط السماع لأنه المقصود من الحضور وسيأتي تمامه. أما اشتراط الشهادة فلقوله صلى الله عليه وسلم «لا نكاح إلا بشهود» قال المصنف."
( کتاب النکاح، مدخل، ج:3، ص:199، ط:دار الفكر، بيروت)
الدر المختار مع الرد میں ہے:
قال في الدر: "تربص يلزم المرأة) أو ولي الصغيرة (عند زوال النكاح) فلا عدة لزنا (أو شبهته) كنكاح فاسد...وسبب وجوبها) عقد (النكاح المتأكد بالتسليم وما جرى مجراه)...تحيض لطلاق) ولو رجعيا (أو فسخ بجميع أسبابه بعد الدخول حقيقة، أو حكما ثلاث حيض كوامل)..و) كذا (موطوءة بشبهة) كمزفوفة لغير بعلها (أو نكاح فاسد) .
قال في الرد: (قوله: بالتسليم) أي بالوطء (قوله: وما جرى مجراه) عطف على التسليم والضمير يعود إليه، والأولى العطف بأو لأن التأكد يكون بأحدهما، وهذا خاص بالنكاح الصحيح أما الفاسد فلا تجب فيه العدة إلا بالوطء كما مر في باب المهر، ويأتي."
(کتاب الطلاق، باب العدة، ج:3، ص:503، ط:سعید)
وفیہ ایضًا:
"و) مبدؤها (في النكاح الفاسد)..(أو) المتاركة أي (إظهار العزم) من الزوج (على ترك وطئها) بأن يقول بلسانه: تركتك بلا وطء ونحوه.
(قوله: من الزوج)قيد به لأن ظاهر كلامهم أنها لا تكون من المرأة. قال في البحر: ورجحنا في باب المهر أنها تكون من المرأة أيضا، ولذا ذكر مسكين من صورها أن تقول: فارقتك. اهـ. ورجحه باتفاقهم على أن لكل منهما فسخ هذا النكاح، والفسخ متاركة اهـ. قال في النهر: وقدمنا ما يدفعه اهـ أي ذكر هناك أن المتاركة في معنى الطلاق فيختص بها الزوج. اهـ. ورده الخير الرملي بأنه لا طلاق في النكاح الفاسد، وتقدم تمامه هناك وأن المقدسي تابع البحر."
(کتاب الطلاق، باب العدة، ج:3، ص:522، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144612100589
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن