
میرے داماد نے میری بیٹی کو ایک طلاق نامہ بھیجا ہے جس میں اس نے تین طلاقیں تحریری طور پر لکھ کر دی ہیں، اور وہ خود اس طلاق نامے کو تیار کروانے کا اقرار بھی کرتا ہے، تاہم اس نے اس پر دستخط نہیں کیے، کیوں کہ اس نے اس دستخط کو بعض شرائط کے ساتھ مشروط کیا تھا، مثلاً یہ کہ میری بیٹی اپنی بہن سے تعلق نہ رکھے۔ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ نہ میری بیٹی شوہر کے گھر جانا چاہتی ہے اور نہ ہی اس کا شوہر اسے اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طلاق نامے کے بھیجنے سے طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں؟
اگر طلاق واقع ہو چکی ہے تو میری بیٹی کی عدت کب سے شروع ہوگی، اور وہ عدت کہاں گزارے گی: میرے بیٹے کے گھر یا میری بیٹی کے گھر؟ کیوں کہ میں (والد) کبھی بیٹے کے گھر ہوتا ہوں اور کبھی بیٹی کے ساتھ۔
مزید یہ کہ طلاق سے پہلے جب میری بیٹی ہمارے ساتھ رہ رہی تھی، تو اس دوران کے تین مہینے کا خرچ میرے داماد نے ادا نہیں کیا، اس کا شرعی حکم بھی درکار ہے۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائل کے داماد نے خود طلاق نامہ کسی سے تحریر کروایا، پھر اسے خود ارسال کیا اور بعد میں اس کا اقرار بھی کرتا رہا ، تو اس صورت میں داماد کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، لہٰذا سائل کی بیٹی اپنے شوہر پر حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ حرام ہو چکی ہے، رجوع جائز نہیں اور دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،دونوں کا نکاح ختم ہوگیا اور جس تاریخ کو طلاق نامہ تیار کیا گیا، اسی تاریخ سے عدت کا آغاز شمار ہوگا۔
طلاق کے بعد عدت مکمل(پوری تین ماہ واریاں اگر حمل نہ ہو ،اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک)ہونے تک مطلقہ بیوی کو رہائش فراہم کرنا اور اس کے نفقہ کا انتظام کرنا شوہر پر لازم ہوتا ہے، مطلقہ بیوی کو اپنی عدت گذارنے اپنے شوہر کے گھر چلی جانا چاہیے ۔
اور شوہر کو چاہیے کہ وہ بیوی کو اپنے گھر باپردہ عدت کا موقع فراہم کرے۔اور دوران عدت پردے کا اہتمام بھی ضروری ہے ،زیرِ نظر مسئلے میں شوہر اگر بیوی کو عدت گزارنے اپنے گھر آنے نہ دے تو شوہر پر ایام عدت کا نان نفقہ لازم ہوگا۔
اور اگر شوہر کے بلانے کے باوجود بیوی اپنے شوہر کے گھر نہ جائے تو شوہر پر بیوی کا نان نفقہ لازم نہیں ہوگا،سائل کی بیٹی نے تین ماہ سائل کے گھر میں گزارے تو اگر داماد سے نان ونفقہ سے متعق کچھ طے ہوا تھا تو شوہر پر گزشتہ زمانہ کا اس قدر نان ونفقہ لازم ہے اور اگر نان نفقہ سے متعلق کچھ طے نہیں ہوا تھا اور نہ ہی عدالت وغیرہ کے ذریعے کچھ مقرر ہوا تو شوہر پر گزشتہ زمانہ کا نفقہ لازم نہیں،پس طلاق کے بعد اگر شوہر مطلقہ بیوی کو رہائش فراہم نہ کرتے ہوئے اسے میکے بھیج دےتو اس صورت میں بھی نفقہ کی فراہمی شوہر پر لازم ہوتی ہے، تاہم طلاق کے بعد اگر مطلقہ بیوی شوہر کی جانب سے فراہم کردہ رہائش گاہ پر سے چلی جائے، تو اس صورت میں وہ نفقہ کی حق دار نہیں ہوتی، یہاں تک کہ شوہر کی جانب سے فراہم کردہ رہائش گاہ واپس آجائے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو........ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب؛ ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابة أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة، وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اهـ ملخصا."
(کتاب الطلاق، مطلب في الطلاق بالكتابة، ج:3، ص:246، ط:سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية."
(کتاب الطلاق ،الباب السادس فی الرجعۃ، ج:1، ص:473، ط:دار الفکر)
البحر الرائق ميں هے:
"المعتدة إذا خرجت من بيت العدة تسقط نفقتها ما دامت على النشوز فإن عادت إلى بيت الزوج كان لها النفقة و السكنى، ثم الخروج عن بيت العدة على سبيل الدوام ليس بشرط لسقوط نفقتها فإنها إذا خرجت زمانا وسكنت زمانا لاتستحق النفقة."
(کتاب الطلاق، باب النفقة ،ج:4/ 217،ط: دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان ... والمعتدة إذا كانت لا تلزم بيت العدة بل تسكن زمانا وتبرز زمانا لا تستحق النفقة كذا في الظهيرية . ولو طلقها، وهي ناشزة فلها أن تعود إلى بيت زوجها، وتأخذ النفقة ... وكما تستحق المعتدة نفقة العدة تستحق الكسوة كذا في فتاوى قاضي خان ويعتبر في هذه النفقة ما يكفيها وهو الوسط من الكفاية وهي غير مقدرة؛ لأن هذه النفقة نظير نفقة النكاح فيعتبر فيها ما يعتبر في نفقة النكاح."
(كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الثالث في نفقة المعتدة، ج:1/ 558، ط: دار الفكر)
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"ولو خاصمته امرأته في نفقة ما مضى من الزمان قبل أن يفرض القاضي عليه لها النفقة لم يكن لها شيء من ذلك عندنا. وعلى قول الشافعي - رحمه الله تعالى - يقضى لها بما لم تستوف من النفقة الماضية. وأصل المسألة أن النفقة لا تصير دينا إلا بقضاء القاضي، أو التراضي عندنا. وعند الشافعي تصير دينا...وحجتنا في ذلك أن النفقة صلة والصلات لا تتأكد بنفس العقد ما لم ينضم إليها ما يؤكدها، كالهبة والصدقة من حيث إنها لا تتم إلا بالقبض..فعرفنا أن طريقه طريق الصلة، وتأكدها إما بالقضاء، أو التراضي ولأن هذه نفقة مشروعة للكفاية فلا تصير دينا بدون القضاء، كنفقة الوالدين والمولودين لا تصير دينا بمجرد مضي الزمان فكذا هنا."
(كتاب النكاح، باب النفقة، ج:184/5 ،ط: دار المعرفة)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144701101487
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن