
اگر بغیر ٹوپی اور بغیر داڑھی والا شخص اقامت کرے تونماز ہو جائے گی یا نہیں؟ یا نماز میں فرق آئے گا؟
بصورت مسئولہ اذان و اقامت ٹوپی پہن کر دینی چاہیے، بغیرٹوپی کے اقامت خلاف اولیٰ ہے، لیکن اِس کی وجہ سےنماز میں کوئی کراہت نہیں آئے گی۔
نیز بغیر داڑھی والے سے مراد اگر وہ شخص ہے جس کی ابھی تک داڑھی آئی ہی نہ ہو تو ایسے شخص کی اقامت بلاکراہت جائزہے۔ تاہم اگر اِس سے مراد وہ شخص ہے جو داڑھی منڈاوتا ہے تو ایسے شخص کا کا اقامت کہنا مکروہ ہے، کیوں کہ داڑھی مونڈنا موجبِ فسق وفجور اور باعث گناہ ہے۔تاہم ڈاڑھی منڈے نے جو اقامت دی ہےنہ اس کو لوٹانا واجب ہے اور نہ ہی اُس کی وجہ سے نماز میں کراہت آئے گی، نماز ادا ہوجائے گی۔
البحر الرائق میں ہے:
"وكره أذان الجنب وإقامته وإقامة المحدث وأذان المرأة والفاسق... وأما الفاسق فلأن قوله لا يوثق به ولا يقبل في الأمور الدينية ولا يلزم أحدا فلم يوجد الإعلام."
(كتاب الصلاة، ج:1، ص:277، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
”سوال :ڈاڑھی منڈانے والا اذان دے سکتا ہے یا تکبیر کہہ سکتا ہے یا نہیں؟
الجواب حامداً و مصلياً:مکروہ ہے۔ فقط واللہ سبحانہ تعالی اعلم ۔“
(کتاب الصلاۃ، باب الاذان، ج:۵، ص:۴۳۸، ناشر:ادارۃ الفاروق)
خیر الفتاوی میں ہے :
’’اذان تو ہوجائے گی لیکن بہتر یہ ہے کہ سر پر پگڑی یا ٹوپی پہن کر اذان دی جائے۔ آئندہ فعلِ مذکور سے احتراز کیا جائے۔‘‘
(کتاب الصلاۃ، باب ما یتعلق بالاذان والاقامۃ، ج۲، ص۲۰۰، ط:مکتبہ امدادیہ)
فتاوی دالعلوم دیوبند میں ہے:
”سوال: جو شخص زانی ہو اور اپنے بیٹے کی زوجہ پر بدنیتی سے ہاتھ ڈالے اس کی تکبیر پڑھنے سے نماز میں کچھ نقصان آتا ہے یانہیں؟
الجواب: اس شخص کے تکبیر پڑھنے سے نماز میں کچھ نقصان نہیں ہوتا ۔ فقط واللہ اعلم ۔“
(کتاب الصلاۃ، اذان و اقامت کا بیان، ج:۲، ص:۱۲۱،ناشر: مکتبہ دارالعلوم دیوبند)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100105
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن