
ہمارے علاقے میں لوگوں کے پاس سیبوں کے باغات ہیں۔ جب سیب توڑے جاتے ہیں تو اس وقت سائل یا مدرسے کے طلبہ باغ میں آ جاتے ہیں۔ باغ والے کبھی انہیں ایک بوری سیب اور کبھی کچھ سیب دے دیتے ہیں، اور پھر ان سے کہتے ہیں کہ اسے عشر میں قبول کر لو۔ کیا اس طرح کرنا صحیح ہے یا نہیں؟ یعنی کیا اس صورت میں عشر ادا ہو جاتا ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر باغ کا مالک کٹائی کے وقت باغ میں آنے والے مدرسے کے مستحق طلبہ کو عشر کی نیت سے سیب کی ایک بوری یا کچھ سیب دے دے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اور اس طرح عشر ادا ہو جائے گا۔ البتہ دیتے وقت عشر کی مقدار کا حساب کر لینا ضروری ہوگا، تاکہ یہ معلوم رہے کہ واجب عشر میں سے کتنی مقدار ادا ہو چکی ہے اور کتنی باقی ہے۔
الدر المختار مع الرد میں ہے:
"باب المصرف أي مصرف الزكاة والعشر، وأما خمس المعدن فمصرفه كالغنائم (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة.
(ومسكين من لا شيء له) على المذهب، - لقوله تعالى {أو مسكينا ذا متربة} [البلد: 16]- وآية السفينة للترحم."
(كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة والعشر، ج:2، ص:339، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101555
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن