بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

باغ کے پھل کے ظاہر ہونے سے پہلے اس کے سودے اور عشر کی ادائیگی کا حکم


سوال

باغ کا پھل ظاہر ہونے سے پہلے اس کا سودا کرنے کا کیا حکم ہے؟ اور ایسی صورت میں زکات بائع پر واجب ہوگی یا مشتری پر؟

جواب

پھل ظاہر ہونے سے پہلے سودا سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا، لہٰذا اگر کسی باغ کا پھل ظاہر ہونے سے پہلے اس کا سودا کیا جائے تو ایسا سودا کالعدم ہوگا۔ باغ بدستور بائع کی ملکیت میں رہے گا، اور پھل ظاہر ہونے کے بعد عشر بھی بائع ہی کے ذمہ ہوگا۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وفي بيع الزرع والرطبة والحشيش بيع الثمار قبل الظهور لا يصح اتفاقا."

(کتاب البیوع، الباب التاسع، الفصل الثاني، ج:3، ص:106، ط:دار الفکر)

وفیه أیضاً:

"ومنها في المبيع وهو أن يكون موجودا فلا ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم كبيع نتاج النتاج والحمل كذا في البدائع."

(کتاب البیوع، الباب الأول في تعريف البيع وركنه وشرطه وحكمه وأنواعه، ج:3، ص:2، ط:دار الفکر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144706101739

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں