بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

باغ کو 5 سال کے لیے ٹھیکہ پر دینے کی چند صورتوں کا حکم


سوال

زید کا ایک باغ ہے جس کے ساتھ متصل ایک خالی زمین بھی موجود ہے، زید اس باغ اور زمین کے متعلق خالد کے ساتھ درج ذیل صورتوں میں سے کسی ایک  پر معاملہ کرنا چاہتا ہے: 

1۔ زید باغ کو خالد کے سپرد اس طرح کرےگا  کہ باغ 5 سال کے لیے خالد کے قبضے میں رہے،اور اس کے عوض طے ہو کہ خالد سالانہ 30 لاکھ روپے کے حساب سے کل 5 سال کے ایک کروڑ پچاس لاکھ روپے (15000000) زید کو ادا کرے گا، جو خالد دو یا تین اقساط میں ادا کرے گا۔

2۔ یا یہ صورت اختیار کرےگا کہ زید باغ کے ساتھ متصل خالی زمین کو مزارعت کے طور پر خالد کو دےگا، اور باغ تبعا اس کے ساتھ شامل ہو جائےگا۔ 

اب سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ دونوں صورتوں میں سے کوئی صورت شرعا جائز ہے؟ اگر جائز نہیں ہے تو اس کی جائز صورت اور حیلہ کی طرف رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ:”عقدِاجارہ“کے ذریعہ کسی چیز کے منافع اور سہولیات کو حاصل کیاجاسکتاہے،کسی چیز کےعین اورذات کو حاصل نہیں کیاجاسکتا؛لہٰذا باغات کو اس طور پر کرایہ پر دینا کہ:کرایہ دار اس کے درختوں  کی لکڑیوں اور پھلوں کواستعمال میں لاکر اس سے فائدہ اٹھائےجائز نہیں ہے؛کیوں کہ اس معاملہ میں درختوں اورپھلوں کے عین کوکرایہ پرلیاجاتاہے، نہ کہ اس کےمنافع کو،اوراجارہ میں عین کوکرایہ پرلیناجائز نہیں ہے،اس لیے اس قسم کے معاملات  شرعاً باطل ہیں، اس سے اجتناب ضروری ہے۔

نیزباغات کی زمین کو بھی کرایہ(ٹھیکہ)پردیناجائز نہیں ہے؛کیوں کہ باغات کی زمین مالک کے درختوں کے ساتھ مشغول ہیں،اس میں مالک کے درخت لگے ہوئے ہیں اورایسی زمین  کہ:جو مالک کے درختوں وغیرہ کے ساتھ مشغول ہو کو کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے،لہٰذا باغات کومذکورہ طریقہ کے ساتھ کرایہ(ٹھیکہ)پردیناجائز نہیں ہے۔

1۔2۔  لہذاصورتِ مسئولہ میں سائل کی ذکر دہ دونوں صورتوں میں باغ کا ٹھیکہ پر دینا درست نہیں،پہلی صورت میں تو ظاہر ہے کہ عین کا اجارہ کیا جاتا ہےجو کہ جائز نہیں، اور دوسری صورت میں خالی زمین (جو باغ کے ساتھ متصل ہے)کا اجارہ اگرچہ درست ہے،  لیکن اس کے ضمن میں اور تبعاً باغ کا اجارہ پر دینا جائز نہیں، کیوں کہ باغ کا اجارہ استہلاکِ عین پر مشتمل ہونے کی وجہ سے باطل ہوگا۔

البتہ باغ میں اجارہ درست ہونے کی صورت اور حیلہ یہ ہے کہ مالکِ باغ پہلے ٹھیکہ دار کو باغ اجارہ پر دینے کے بجائے مساقات پر دے دے، یعنی اس سے کہے کہ آپ باغ کی آبپاشی اور دیکھ بھال کرتے رہیں، جو پھل آئے گا اس کا مخصوص حصہ (مثلاً پیداوار کا ایک تہائی یا نصف وغیرہ، جو بھی درمیان میں طے ہو) آپ کا ہوگا اور باقی حصہ میرا ہوگا، پھر مالکِ باغ اپنے حصے میں مساقی کو تصرف کی اجازت دے دے کہ وہ اس حصے کو باغ کے اخراجات میں لگادے یا یہ حصہ مساقی کے لیے مباح کرکے بخش دے، اس کے بعد مالکِ باغ، باغ کی زمین (جس پر درخت لگے ہوئے ہیں) مساقی کو مذکورہ مدت (5 سال) کے لیے اور مذکورہ رقم (15,000,000) پر اجارہ پر دے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما معنى الإجارة فالإجارة بيع المنفعة لغة ولهذا سماها أهل المدينة بيعا وأرادوا به بيع المنفعة ... وإذا عرف أن الإجارة بيع المنفعة فنخرج عليه بعض المسائل فنقول: لا تجوز إجارة الشجر والكرم للثمر؛ لأن الثمر عين والإجارة بيع المنفعة لا بيع العين، ولا تجوز إجارة الشاة للبنها أو سمنها أو صوفها أو ولدها؛ لأن هذه أعيان فلا تستحق بعقد الإجارة، وكذا إجارة الشاة لترضع جديا أو صبيا لما قلنا، ولا تجوز إجارة ماء في نهر أو بئر أو قناة أو عين لأن الماء عين فإن استأجر القناة والعين، والبئر مع الماء لم يجز أيضا؛ لأن المقصود منه الماء وهو عين، ولا يجوز استئجار الآجام التي فيها الماء للسمك، وغيره من القصب والصيد؛ لأن كل ذلك عين فإن استأجرها مع الماء فهو أفسد وأخبث؛ لأن استئجارها بدون الماء فاسد فكان مع الماء أفسد ولا تجوز إجارة المراعي؛ لأن الكلأ عين فلا تحتمل الإجارة، ولا تجوز إجارة الدراهم، والدنانير ولا تبرهما وكذا تبر النحاس والرصاص ولا استئجار المكيلات والموزونات؛ لأنه لا يمكن الانتفاع إلا بعد استهلاك أعيانها، والداخل تحت الإجارة المنفعة لا العين."

(کتاب الإجارۃ،فصل في ركن الإجارة ومعناها، 4/174،175، ط: دارالکتب العلمیة)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ثم الزرع إذا لم يدرك فأراد جواز الإجارة في الأرض فالحيلة في ذلك أن يدفع الزرع إليه معاملة إن كان الزرع لرب الأرض على أن يعمل المدفوع إليه في ذلك بنفسه وأجرائه وأعوانه على أن ما رزق الله تعالى من الغلة فهو بينهما على مائة سهم من ذلك للدافع وتسعة وتسعون سهما للمدفوع إليه ثم يأذن له الدافع أن يصرف السهم الذي له إلى مؤنة هذه الضيعة أو إلى شيء أراد ثم يؤاجر الأرض منه ... وكذلك الحيلة في الشجر والكرم يدفع الشجر والكرم معاملة. كذا في المحيط."

(کتاب الإجارۃ، الباب الخامس عشر في بيان ما يجوز من الإجارة وما لا يجوز، الفصل الرابع في فساد الإجارة إذا كان المستأجر مشغولا بغيره، 4/ 446، ط: دار الفكر)

وفيه أيضا: 

"رجل آجر أرضا بعضها مزروعة وبعضها فارغة ففي المزروعة فاسدة وفي الفارغة أيضا فاسدة لفسادها. كذا في جواهر الفتاوى."

(كتاب الإجارة، الباب الخامس عشر في بيان ما يجوز من الإجارة وما لا يجوز، الفصل الرابع في فساد الإجارة إذا كان المستأجر مشغولا بغيره، 4/ 447، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"من أخذ كرم الوقف أو اليتيم مساقاة، فيستأجر أرضه الخالية من الأشجار بمبلغ كثير، ويساقي على أشجارها بسهم من ألف سهم، فالحظ ظاهر في الإجارة لا في المساقاة فمفاده فساد المساقاة بالأولى؛ لأن كلا منهما عقد على حدة."

(كتاب الإجارة، شروط الإجارة، 6/ 8، ط: سعيد)

العنایہ شرح الہدایہ میں ہے:

"(‌والمساقاة ‌هي ‌المعاملة) ‌بلغة ‌أهل ‌المدينة: ومفهومها اللغوي هو مفهومها الشرعي فهي معاقدة دفع الأشجار والكروم إلى من يقوم بإصلاحها على أن يكون لهم سهم معلوم من ثمرها."

(كتاب المساقاة، 9/ 479، ط: دار الفكر)

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري میں ہے:

"المساقاة دفع النخل والكرم والأشجار المثمرة معاملة بالنصف أو بالثلث أو بالربع قل أو كثر وأهل المدينة يسمونها المعاملة."

(کتاب المساقاۃ، 1/373، ط: المطبعة الخیریة)

احسن الفتاوٰی میں ہے:

”سوال:آج کل  باغ ٹھیکہ پردینے کا جیساعام دستور ہے،اس کی جواز کی کوئی صورت ہے یا نہیں؟
جواب:پہلے باغ مساقاۃ یعنی حصۂ معینہ پردیدے،پھراسی شخص کو باغ کی زمین مقاطعہ پردیدے اور باغ کے پھل میں جو حصہ مالک نے رکھا تھا وہ مقاطعہ دار کے لیے مباح کردے۔“

(أحسن الفتاوٰی،کتاب الاجارۃ،7/267،ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101064

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں