بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیر کاغذات والی بائیک خریدنا


سوال

شوروم سے بغیر کاغذات والی بائیک خریدنا کیسا ہے؟یہ بھی بتائیں کہ کسی آدمی سے بغیر کاغذات والی بائیک خریدنے کا بھی وہی حکم ہوگا جو حکم شوروم والوں سے خریدنے کا ہے؟

جواب

بغیر کاغذات والی بائیک سے مراد اگر یہ ہے کہ اس کے کاغذات اصل مالک سے گم ہوگئے ہیں تب تو اس کا خریدنا شرعا جائز ہے ،لیکن اگر بغیر کاغذات والی بائیک سے مراد یہ ہے کہ چوری کی بائیک ہے تو اس کا خریدنا شرعا جائز نہیں ہے ۔   شوروم سےیا شورم کے علاوہ عام کسی آدمی سے بغیر کاغذات والی بائیک خریدی جائے دونوں کے لئے یہی مذکورہ حکم ہے۔

حدیث میں ہے:

" عن شرحبيل مولى الأنصار , عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "من اشترى سرقةً وهو يعلم أنها سرقة فقد أشرك في عارها وإثمها".

(السنن الکبرٰی للبیہقی،کتاب البیوع،باب کراہیۃ مبایعۃ من اکثر مالہ من الربا،ج:5،ص:548،دارالکتب العلمیۃ)

فتاوی شامی میں ہے :

"(قوله الحرمة تتعدد إلخ) نقل الحموي عن سيدي عبد الوهاب الشعراني أنه قال في كتابه المنن: وما نقل عن بعض الحنيفة من أن الحرام لا يتعدى ذمتين، سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما لو رأى المكاس مثلا يأخذ من أحد شيئا من المكس ثم يعطيه آخر ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فهو حرام اهـ"

(کتاب البیوع،باب البیع الفاسد ،ج:5،ص:98،سعید)

حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار میں ہے:

"إن علم ان العين التي يغلب علي الظن انهم اخذوها من الغير بالظلم قائمة و باعوها في الاسواق فانه لاينبغي شرائها منهم وان تداولته الايدي."

( کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۴،ص۱۹۲،ط؛دار المعرفۃ)

فتاوی محمودیہ میں ہے :

"سوال:مسروقہ شیئ مثلاً:جانور،کپڑا،جوتا وغیرہ کو دانستہ یا غیر دانستہ  خریدنااور اس کو استعمال کرنا کیسا ہے ؟

الجواب حامدا ومصلیا:

معلوم ہونے پر کہ یہ چوری کی چیز ہے  ،اس کا خریدنا درست نہیں ،اس سے اس کی ملکیت ثابت نہیں ہوں گی ۔"

(باب المال الحرام ومصرفہ،ج:24،ص:215،فاروقیہ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100575

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں