بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیر گواہوں کے فون پر آپس میں ایجاب وقبول کرلینے سے نکاح کا حکم


سوال

ایک لڑکی پچھلے تین سال سے ایک لڑکے کے ساتھ سوشل میڈیا اور فون پر رابطے میں ہے۔ لڑکے نے متعدد مرتبہ اور مختلف اوقات میں فون پر اپنا اور لڑکی کا نام (بمعہ والدین کے نام) لے کر نکاح کے ایجاب و قبول کے الفاظ، یعنی” میں نے تمہیں قبول کیا“ دہرائے اور لڑکی نے بھی یہی الفاظ دہرائے۔ یہ تمام بات چیت صرف فون پر ہوئی۔ نہ کوئی گواہ یا ولی موجود تھا، نہ مجلسِ نکاح قائم ہوئی، نہ ہی اس سارے عرصے میں کوئی جسمانی یا بالمشافہ ملاقات ہوئی۔پوچھنا یہ ہے کہ:

 کیا اس طرح (فون پر کہے گئے قبول کے الفاظ) سے شرعی یا پاکستانی قانون کے مطابق نکاح منعقد ہو جاتا ہے؟ اگر یہ نکاح معتبر شمار ہوتا ہے تو کیا لڑکے سے طلاق لینا ضروری ہے؟نیز اگر لڑکا نہ طلاق دیتا ہے اور نہ شادی کرتا ہے تو خلع کے لیے شرعی و قانونی طریقہ کیا ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ  شرعاً نکاح صحیح  طور پر منعقدہونے کے لیے ایجاب و قبول کی مجلس کا ایک ہونا  اور اس میں جانبین میں سے دونوں کا  خود موجود ہونا  یا ان کے وکیل کا موجود ہونا ضروری ہے،  نیز مجلسِ نکاح میں دو گواہوں (دو  عاقل بالغ  مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں) کا ایک ساتھ موجود ہونا اور دونوں گواہوں کا اسی مجلس میں نکاح کے ایجاب و قبول کے الفاظ کا سننا بھی شرط ہے،اگر  گواہوں  کی موجودگی کے بغیر  کسی نے ایجاب و قبول کر لیا تو اس سے نکاح منعقد نہیں ہوتا اور دونوں میاں بیوی نہیں بن جاتے،  بلکہ اجنبی ہی رہتے ہیں۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں لڑکے اور لڑکی کا گواہوں کی غیر موجودگی اورباقاعدہ مجلس نکاح کے بغیرمحض فون پر آپس میں ایجاب وقبول کرنے سےنکاح منعقد نہیں ہوا ہے، اور جب یہ نکاح شرعاً  منعقد ہی نہیں ہوا ہے تو لڑکے سے طلاق لینے یا خلع لینے کی ضرورت بھی نہیں ہے،  بلکہ لڑکی جہاں چاہے اپنی اور والد و سرپرست کی  مرضی سے شرعی قواعد و ضوابط کے مطابق نکاح کرسکتی ہے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر.

(قوله: من أحدهما) أشار إلى أن المتقدم من كلام العاقدين إيجاب سواء كان المتقدم كلام الزوج، أو كلام الزوجة والمتأخر قبول ح عن المنح."

(كتاب النكاح، ج:3، ص:9، ط: سعيد)

وفیه أیضاً:

"ومن شرائط الإیجاب والقبول: اتحاد المجلس لوحاضرین ۔۔۔

(قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ینعقد، فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر، بطل الإیجاب؛ لأن شرط الارتباط اتحاد الزمان، فجعل المجلس جامعاً تیسیراً."

(کتاب النکاح، ج:3، ص:14، ط: سعید)

وفیه أیضاً:

"(و) شرط (حضور) شاهدين  (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)ــ على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب بحر (مسلمين لنكاح مسلمة ۔۔۔ ."

  (کتاب النکاح، ج3، ص21 تا 23، ط:سعید)

اللباب فی شرح الکتاب میں ہے:

"(ولا ينعقد نكاح المسلمين) بصيغة المثنى (إلا بحضور شاهدين حرين بالغين عاقلين مسلمين) سامعين معا قولهما فاهمين كلامهما على المذهب كما في البحر (أو رجل وامرأتين، عدولا كانوا) أي الشهود."

(کتاب النکاح، ج:3، ص:3، ط: المکتبة العلمیة)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ويشترط العدد فلا ينعقد النكاح بشاهد واحد هكذا في البدائع ولا يشترط وصف الذكورة حتى ينعقد بحضور رجل وامرأتين، كذا في الهداية ولاينعقد بشهادة المرأتين بغير رجل وكذا الخنثيين إذا لم يكن معهما رجل هكذا في فتاوى قاضي خان ۔۔۔ (ومنها) أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس لاينعقد وكذا إذا كان أحدهما غائبا لم ينعقد حتى لو قالت امرأة بحضرة شاهدين: زوجت نفسي من فلان وهو غائب فبلغه الخبر فقال: قبلت، أو قال رجل بحضرة شاهدين: تزوجت فلانة وهي غائبة فبلغها الخبر فقالت: زوجت نفسي منه لم يجز وإن كان القبول بحضرة ذينك الشاهدين، وهذا قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى- ولو أرسل إليها رسولاً أو كتب إليها بذلك كتاباً فقبلت بحضرة شاهدين سمعا كلام الرسول وقراءة الكتاب جاز؛ لاتحاد المجلس من حيث المعنى."

(کتاب النکاح، الباب الأول في تفسير النكاح شرعا وصفته وركنه وشرطه وحكمه، ج:1، ص:269 تا 267، ط:دار الفکر)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ثم النكاح كما ينعقد بهذه الألفاظ بطريق الأصالة ينعقد بها بطريق النيابة، بالوكالة، والرسالة؛ لأن تصرف الوكيل كتصرف الموكل، وكلام الرسول كلام المرسل، والأصل في جواز الوكالة في باب النكاح ما روي أن النجاشي زوج رسول الله صلى الله عليه وسلم أم حبيبة - رضي الله عنها - فلايخلو ذلك إما أن فعله بأمر النبي صلى الله عليه وسلم أو لا بأمره، فإن فعله بأمره فهو وكيله، وإن فعله بغير أمره فقد أجاز النبي صلى الله عليه وسلم عقده والإجازة اللاحقة كالوكالة السابقة."

(کتاب النکاح، فصل رکن النکاح، ج:2، ص:231، ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100236

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں