
میں ایک دکان دار ہوں، مارکیٹ میں ایک دوسرے دکان دار کو کچھ پیسوں کی ضرورت پڑی،تو ایک تیسرے شخص نے آ کر مجھ سے کہاکہ اس ضرورت مند دکان دارسےمال خرید لوجو منافع ہوگا ہم آپس میں تقسیم کر لیں گے،میں نے جا کر اس ضرورت مندسے کم سے کم قیمت میں سودا کیا،جس میں یہ طے پایا کہ وہ ضروت مند یہ سامان مجھ سے واپس خرید لے گا، اس پر میں نے اس کو کہا کہ میں آپ کو پھر اپنی قیمت پر دوں گا، یعنی جو چیز میں نے اس سے چارسوکی خریدی وہ میں اس کو واپس سات سو کی دوں گا اور جو بارہ سوکی خریدی وہ سولہ سوکی دوں گا اور اس بات کا پابند میں رمضان کے دسویں روزے تک رہوں گا،اس کے بعد وہ مال میں خود فروخت کردوں گا،یہ سب طے کرنے کے بعد اس نے مال گنتی کروایا،مال میں نے اپنے تحویل میں لیا،پھر اس نے بل بنایا اور میں نے اس کو مال کی قیمت ادا کی جو کہ ایک لاکھ روپے تھی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کرنا ٹھیک ہے؟ یہ کوئی انجانے میں سودی معاہدہ تو نہیں ہو رہا؟
واضح رہے کہ خرید و فروخت کا معاملہ کرتے وقت ایسی شرط لگانا جس شرط کا یہ معاملہ نہ تقاضا کرتا ہو اور نہ ہی یہ شرط اس معاملہ کے مناسبات میں سے ہو اور اس شرط میں بیچنے والے یا خریدنے والے کا کوئی فائدہ ہو تو یہ شرط خرید و فروخت کے معاملہ کو فاسد کردیتی ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں جب آپ نے اس دوسرے شخص سے سوداکیااور اس میں یہ طےکیاکہ ’’یہ سامان وہی شخص مجھ سے واپس خریدےگااور اس بات کا میں رمضان کے دسویں روز تک پابند رہوں گا‘‘تو اس شرط کی بناء پر یہ معاملہ شرعاًفاسد ہوا،اب آپ دونوں پر لازم ہے کہ اس معاملہ کو جلدازجلد ختم کردیں اور سائل نے جو سامان اس سے خریداہےوہ اس کو واپس کردےاور جتنی رقم اس کو دی ہے،وہی رقم اس سے واپس لے کر نئے سرے سے سودا کر لے، جس میں واپس خریدنے کی کوئی شرط نہ ہو۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: و لا بيع بشرط) شروع في الفساد الواقع في العقد بسبب الشرط «لنهيه صلى الله عليه وسلم عن بيع وشرط»، لكن ليس كل شرط يفسد البيع، نهر. وأشار بقوله: بشرط إلى أنه لا بد من كونه مقارنًا للعقد؛ لأنّ الشرط الفاسد لو التحق بعد العقد، قيل: يلتحق عند أبي حنيفة، وقيل: لا، وهو الأصح كما في جامع الفصولين."
(کتاب البیوع،باب البيع الفاسد، ج: 5، ص: 84، ط:سعید)
بدائع الصنائع میں ہے:
"(ومنها) شرط لايقتضيه العقد وفيه منفعة للبائع أو للمشتري أو للمبيع إن كان من بني آدم كالرقيق وليس بملائم للعقد ولا مما جرى به التعامل بين الناس نحو ما إذا باع دارًا على أن يسكنها البائع شهرًا ثم يسلّمها إليه أو أرضًا على أن يزرعها سنةً أو دابةً على أن يركبها شهرًا أو ثوبًا على أن يلبسه أسبوعًا أو على أن يقرضه المشتري قرضًا أو على أن يهب له هبةً أو يزوج ابنته منه أو يبيع منه كذا ونحو ذلك أو اشترى ثوبًا على أن يخيطه البائع قميصًا أو حنطةً على أن يطحنها أو ثمرةً على أن يجذها أو ربطةً قائمةً على الأرض على أن يجذها أو شيئًا له حمل ومؤنة على أن يحمله البائع إلى منزله ونحو ذلك؛ فالبيع في هذا كلّه فاسد؛ لأنّ زيادة منفعة مشروطة في البيع تكون ربا؛ لأنها زيادة لايقابلها عوض في عقد البيع وهو تفسير الربا."
(كتاب البيوع، فصل في شرائط الصحة في البيوع، ج: 5، صفحہ: 169، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101633
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن