
بد نظری سے کیسے بچیں؟
بدنظری سے بچنے کے لیے اللہ تعالی نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا ہے کہ آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے زیادہ صفائی کی بات ہے بے شک اللہ تعالیٰ کو سب کی خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں۔
اسی طرح سائل حضورﷺ کی دو حدیثیں بھی ذہن میں رکھے امید ہے کہ بد نظری سے بچنے کی توفیق ملے گی، پہلی یہ کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ کوئی مسلمان اگر کسی عورت کے محاسن پر اول مرتبہ نظر پڑتے ہی اپنی نظر نیچی کرلے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک ایسی عبادت کی توفیق عطا فرماتے ہیں جس کی حلاوت اسے محسوس ہوتی ہے، اور دوسری حدیث میں آتا ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے علی! پہلی نظر جو دفعتًا کسی عورت پر پڑجائے وہ تو معاف ہے اور اگر تم نے نظر کو جمائے رکھا یا دوبارہ نظر ڈالی تو اس کا وبال قیامت میں تم پر ہوگا۔
اس کے علاوہ سائل نیک ماحول اور صحبت اختیار کرے اور یہ ذہن میں رکھے کہ جس طرح آپ اس بات کو ناپسند کریں گے کہ کوئی آپ کی بہن ،بیٹی کو بری نظر سے دیکھے اسی طرح ہر لڑکی کسی کی بہن اور کسی کی بیٹی ہے، اس کی عزت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے ۔
اسی طرح راستے میں چلتے ہوئے نگاہیں جھکا کر چلنے کی عادت بنائیں یہ اللہ تعالی کا حکم بھی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی سنت بھی، اور ایک مسلمان کے لیے دنیا میں عافیت اور آخرت میں نجات اللہ تعالی کے اوامر پر سنت کے مطابق عمل کرنے ہی میں ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ سائل حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب قدس سرہ کی تالیف ”بدنظری کا علاج“ بازار سے لے کر اس کا مطالعہ کریں۔
قرآن کریم میں ہے :
﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (30)﴾
ترجمہ : ”آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے زیادہ صفائی کی بات ہے بے شک اللہ تعالیٰ کو سب کی خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں۔“ (بیان القرآن،سورۃ نور ، آیت : 30 ، ج:2، ص: 572 ، ط: رحمانیہ)
مشکاۃ المصابیح میں ہے :
"وعن بريدة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: يا علي لا تتبع النظرة النظرة فإن لك الأولى وليست لك الآخرة . رواه أحمد والترمذي وأبو داود والدارمي"
ترجمہ: ”اور حضرت بریدہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت علی سے فرمایا کہ "علی! نظر پڑ جانے کے بعد پھر نظر نہ ڈالو (یعنی اگر کسی عورت پر ناگہاں نظر پڑ جائے تو پھر اس کے بعد دوبارہ اس کی طرف نہ دیکھو) کیونکہ تمہارے لیے پہلی نظر تو جائز ہے (جب کہ اس میں قصد وارادہ کو قطعاً دخل نہ ہو) مگر دوسری نظر جائز نہیں ہے۔(مظاہر حق)
( كتاب النكاح ، باب النظر الي المخطوبة، الفصل الثاني، ج:2، ص: 933، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)
وفيه ايضا:
"وعن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ما من مسلم ينظر إلى محاسن امرأة أول مرة ثم يغض بصره إلا أحدث الله له عبادة يجد حلاوتها."
ترجمہ : ”حضرت ابو امامہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جس مسلمان کی نظر پہلی مرتبہ (بلا قصد و ارادہ) کسی عورت کے حسن و جمال کی طرف اٹھ جائے اور پھر وہ (فوراً) اپنی نظر پھیر لے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک عبادت پیدا کر دے گا جس سے وہ شخص لذت حاصل کرےگا۔“ (احمد)
تشریح: ”مطلب یہ ہے کہ اس شخص نے چونکہ اپنے رب کی فرمانبرداری میں ایک حسن و جمال کی طرف اٹھی ہوئی نظر کو فوراً پھیر لیا اور اس طرح اس نے گویا اپنے جمالیاتی ذوق کو تسکین پہنچانے کی بجائے اپنے پروردگار کے حکم کے سامنے اپنے نفس کی خواہش کو پامال کر دیا اس لئے حق تعالیٰ اس کے اس فعل (نظر پھیر لینے) کو ایک ایسی عبادت میں تبدیل کر دے گا جس کی وجہ سے وہ اپنے قلب و دماغ میں حکم خداوندی کی تعمیل کے نتیجہ میں حاصل ہونے والے مخصوص سکون قلب کی لذت محسوس کرے گا اور یہ لذت دراصل اس تلخی کا بدلہ ہوگی جو اس نے اپنے نفس کی خواہش پر صبر و ضبط کرنے پر برداشت کی تھی۔“
(کتاب النکاح، باب النظر الی المخطوبۃ وبیان العورات،الفصل الثالث،ج:2، ص: 936،ط:المکتب الاسلامی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802100402
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن