
والد محترم نے اپنے بڑے بیٹے کو کاروبار بنا کر دیا کہ میں ملازمت نہیں کر سکتا، اب گھر کی کفالت تم کرو گے۔ اس کاروبار کو شروع میں یہ نام دیا گیا کہ سب کا کاروبار ہے۔ کل تین بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ تینوں بھائیوں نے مل کر ہر ایک نے اپنے حصے کا کام کیا۔ اس میں مہینہ کی تنخواہ وغیرہ کوئی طے نہیں ہوئی تھی۔ 2012 سے 2019 تک یہی ترتیب رہی۔ ان میں ایک بھائی جو کہ عالم دین ہیں چلہ کی جماعت میں چلے گئے۔ پیچھے ساری ترتیب دو بھائیوں نے سنبھال لی۔ یہ مشہور ہوا کہ کاروبار بڑے بھائی کا ہے، چھوٹا بھائی اس کا معاون ہے، تیسرے کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔ والدہ محترمہ کا بھی یہی کہنا ہے۔
پوچھنا یہ ہے کہ بندہ 2012 سے 2019 تک اس کاروبار میں شریک رہا ہے، اس دوران جو پراپرٹی خریدی گئی اور جو منافع ہوا، کیا اس میں بندہ شرعی طور پر حق دار ہے یا نہیں؟
دوسرا یہ کہ کفیل کو جو ملکیت کفالت کے لیے دی جائے، کیا وہ اکیلے طور پر مالک ہو جاتا ہے یا سب ورثاء اس میں شریک ہوتے ہیں؟
اگر والد صاحب نے مذکورہ کاروبار بڑے بیٹے کو گھر کی کفالت کے لیے دیا تھا، نہ کہ تحفہ (گفٹ) کیا تھا، تو یہ کاروبار جب تک والد حیات ہیں والد کی ملکیت ہوگا۔ والد کے انتقال کے بعد جب تک کاروبار تقسیم نہ ہو جائے، تمام ورثاء اس کاروبار اور اس سے حاصل ہونے والی جائیداد و منافع میں اپنے شرعی حصے کے مطابق شریک ہوں گے، چاہے کسی نے کام کیا ہو، کسی نے کم کیا ہو یا کسی نے بالکل نہ کیا ہو۔
لہٰذا صورتِ مسئلہ میں اگر والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے تو کاروبار جتنا بھی بڑھ گیا ہو، تمام ورثاء اس میں اپنے شرعی حصے کے مطابق شریک ہیں۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ کاروبار بڑے بھائی کا ہے، چھوٹا بھائی اس کا معاون ہے اور تیسرے بھائی کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وكذا لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية، ولو اختلفوا في العمل والرأي.....ثم هذا في غير الابن مع أبيه؛ لما في القنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له ألا ترى لو غرس شجرة تكون للأب".
(کتاب الشرکة، فصل في الشركة الفاسدة، مطلب: اجتمعا في دار واحدة واكتسبا ولا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية، 325/4، ط:سعید)
العقود الدریہ میں ہے:
"(سئل) في إخوة خمسة تلقوا تركة عن أبيهم فأخذوا في الاكتساب والعمل فيها جملة كل على قدر استطاعته في مدة معلومة وحصل ربح في المدة وورد على الشركة غرامة دفعوها من المال فهل تكون الشركة وما حصلوا بالاكتساب بينهم سوية وإن اختلفوا في العمل والرأي كثرة وصوابا؟
(الجواب) : نعم إذ كل واحد منهم يعمل لنفسه وإخوته على وجه الشركة وأجاب الخير الرملي بقوله هو بينهما سوية حيث لا يميز كسب هذا من كسب هذا ولا يختص أحدهما به ولا بزيادة على الآخر إذ التفاوت ساقط كملتقطي السنابل إذا خلطا ما التقطا،،،،فالظاهر أنها شركة ملك لا يجري فيها تفاوت في الربح بل يكون ما في أيديهم بينهم سوية كما مر وهذه المسألة تقع كثيرا خصوصا في أهل القرى حيث يموت الميت منهم وتبقى تركته بين أيدي ورثته بلا قسمة يعملون فيها وربما تعددت الأموات وهم على ذلك."
(كتاب الشركة، 93/1، ط:دار المعرفة)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144704100102
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن