
ایک عورت گھریلو سامان، مثلاً واشنگ مشین وغیرہ کی مرمت کے لیے ایک مستری کو فون کرنے کی غرض سے پہلے اپنے شوہر کو فون کرتی ہے جو اس وقت کام پر ہوتا ہے، لیکن وہ فون نہیں اٹھاتا۔ متعدد بار فون نہ اٹھانے کی وجہ سے وہ خاتون مستری کو فون کرکے اسے بلا لیتی ہے۔ جب مستری مزدوری مانگتا ہے تو اس وقت خاتون اپنی پڑوسن کے ہمراہ ہوتی ہے۔ مزدور کو مزدوری دینے سے پہلے پڑوسن اپنے گھر چلی جاتی ہے۔
خاتون جب پردے میں رہتے ہوئے مزدوری دینے لگتی ہے تو اچانک دروازے پر دستک ہوتی ہے۔ جب دروازہ کھولا جاتا ہے تو اس کا شوہر موجود ہوتا ہے۔ خاوند یہ منظر دیکھ کر آگ بگولا ہوجاتا ہے اور کہتا ہے:
“تم نے ایک اجنبی شخص کو اپنے گھر کیسے بلایا؟ تم ایک بے اعتبار، نالائق اور گھر بسانے والی عورت نہیں ہو!”
بیوی اس کو تمام صورتِ حال سے آگاہ کرتی ہے، جو اوپر بیان کی گئی، لیکن خاوند اس کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہوتا اور بدگمانی کرنے لگتا ہے۔
آپ حضرات سے دریافت کرنا ہے کہ ایسے خاوند کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں کیا حل ہے اور کس طرح ان کو یہ یقین دلایا جائے کہ عورت اپنے قول میں سچی ہے، جب کہ ان کی شادی کو پچیس سال ہوچکے ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا ایک اجنبی شخص (مستری) کو شوہر کی غیر موجودگی میں فون کر کے بلانا شرعاً ناپسندیدہ اور غیر محتاط عمل تھا۔ اگر شوہر فون نہیں اٹھا رہا تھا تو سائلہ کو چاہیے تھا کہ وہ انتظار کر لیتی یا کسی اور مناسب ذریعے سے مسئلہ حل کرتی۔ اس قسم کے معاملات میں احتیاط برتنا ضروری ہے تاکہ بدگمانی کی فضا پیدا نہ ہو۔
باقی جہاں تک اس مخصوص مسئلے کا تعلق ہے، تو اس تنہائی کے دوران خدانخواستہ کوئی غیر شرعی فعل سرزد نہیں ہوا ہے ، تو شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی پر اعتماد کرے، اور محض بدگمانی کی بنیاد پر، بغیر تحقیق کے ناراضی یا سختی کا رویہ اختیار نہ کرے۔
ایسے مواقع پر شریعت ہمیں صبر، برداشت، درگزر، اور اصلاح کا راستہ اختیار کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ:"جب تک کسی بات کا اچھا پہلو تلاش کیا جا سکتا ہو، بدگمانی سے پرہیز کرو۔"
اسی طرح نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:"ایمان والوں! بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے، اور کسی کی ٹوہ میں نہ پڑو، اور نہ ہی ایک دوسرے کی جاسوسی کرو۔"(صحیح بخاری و مسلم)
لہٰذا بیوی کو چاہیے کہ وہ آئندہ مزید احتیاط کرے اور اپنے شوہر کی خوشنودی و فرماںبرداری کا اہتمام کرے، کیونکہ ایک نیک بیوی کی بہت بڑی فضیلت نبی کریم ﷺ نے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے: "جس عورت نے اپنے (ماہواری سے) پاکی کے دنوں میں پانچوں وقت کی نماز پڑھی، رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی، اور اپنے شوہر کی اطاعت کی — تو قیامت کے دن وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو سکتی ہے۔"(مشکاۃ المصابیح، جلد 2، صفحہ 281، باب عشرت النساء، طبع: قدیمی)
تفسیر روح المعانی میں ہے"
"أخرج البيهقي في شعب الإيمان عن سعيد بن المسيب قال: كتب إلي بعض اخواني من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ضع أمر أخيك على أحسنه ما لم يأتك ما يغلبك، ولا تظنن بكلمة خرجت من امرئ مسلم شرا وأنت تجد لها في الخير محملا، ومن عرض نفسه للتهم فلا يلومن إلا نفسه، ومن كتم سره كانت الخيرة في يده"
(سورۃ الحجرات، ج:13، ص:307، ط:دار الكتب العلمية - بيروت)
مسلم شریف میں ہے:
"حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب يعني ابن عبد الرحمن القاري، عن أبي حازم، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يفرك مؤمن مؤمنة، إن كره منها خلقا رضي منها آخر."
ترجمہ:"کوئی مومن کسی مومنہ (بیوی) سے نفرت نہ کرے، اگر اس کی کسی عادت کو ناپسند کرے تو کسی دوسری عادت کو پسند بھی کرے۔"
(کتاب :الرضاع،باب:الوصیۃ بالنساء،ج:2،ص:959،ط:البشری)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وعليها أن تطيعه في نفسها، وتحفظ غيبته؛ ولأن الله عز وجل أمر بتأديبهن بالهجر والضرب عند عدم طاعتهن، ونهى عن طاعتهن بقوله عز وجل: {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] ، فدل أن التأديب كان لترك الطاعة، فيدل على لزوم طاعتهن الأزواج."
(کتاب النکاح، ج:2، ص:334، ط:دارالکتب العلمیۃ)
ترمذی شریف میں ہے:
"حدثنا قتيبة، حدثنا جعفر بن سليمان، عن أبي عمران الجوني، عن عبد الله بن الصامت، عن أبي ذر، قال: قال رسول الله ﷺ:"إن من أكمل المؤمنين إيمانا أحسنهم خلقا وألطفهم بأهله."
ترجمہ:"بے شک مومنوں میں سے کامل ایمان والا وہ ہے جو ان میں سب سے اچھے اخلاق والا ہو اور اپنے گھر والوں کے ساتھ نرمی برتنے والا ہو۔"
(ابواب الایمان عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،باب:ما جاء فی استکمال الایمان و زیادتہ و نقصانہ،ج:2،ص:1079،ط:بشری)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100913
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن