بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بچے کو ماں کا دودھ کتنے عرصہ تک پلایا جا سکتا ہے ؟


سوال

 بچے کو ماں کا دودھ کتنے عرصہ تک پلایا جا سکتا ہے ؟

جواب

رضاعت (دودھ پلانے)  کی مدت دو سال ہے،   خواہ لڑکا ہو یا لڑکی،  دو سال کے بعد دودھ  چھڑا دینا چاہیے، البتہ  اگر کوئی بچہ یا بچی  زیادہ کمزور ہو تو  اُسے ضرورتًا  ڈھائی  سال تک بھی دودھ  پلانے  کی  گنجائش ہے۔  

نیز   دو   سال (یا مجبوری میں ڈھائی سال) تک دودھ   پلانے   کا حکم وجوبی نہیں ہے، بلکہ یہ دودھ   پلانے کی  مدت ہے، لہٰذا اگر کوئی بچہ اس مدت کے پورا ہونے سے پہلے ہی خود سے دودھ چھوڑ دیتا ہے، یا والدین کے اتفاق سے اس مدت سے پہلے ہی بچے کا دودھ چھڑا دیا جاتاہے، اور  بچے کے لیے متبادل غذا کا بندوبست بھی موجود ہو تو  ماں پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

قرآنِ کریم میں ہے:

﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ لا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلاَّ وُسْعَهَا لا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ فَإِنْ أَرَادَا فِصَالاً عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلادَكُمْ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَا آتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴾  [ البقرة : 233]

ترجمہ: اور مائیں اپنے بچوں کو دوسال کامل دودھ  پلایا کریں،  یہ (مدت)  اس کے لیے ہے جو کوئی شیر خوار گی کی تکمیل کرنا چاہے،  اور جس کا بچہ ہے (یعنی باپ) اس کے ذمے  ہے ان (ماؤ ں) کا کھانا اور کپڑا  قاعدے کے موافق،  کسی شخص کو حکم نہیں دیا جاتا مگر اس کی برداشت کے موافق،  کسی ماں کو تکلیف نہ پہنچانا چاہیے اس کے بچے  کی وجہ سے،  اور نہ کسی باپ کو تکلیف دینی چاہیے اس کے بچے  کی وجہ سے۔    اور مثل  طریق مذکور کے اس کے ذمے  ہے جو وارث ہو ۔  پھر اگر دونوں دودھ  چھڑانا چاہیں اپنی رضامندی اور مشورہ  سے تو دونوں پر کسی قسم کا گناہ نہیں، اور  اگر تم لوگ اپنے بچوں کو (کسی اور انّا کا) دودھ  پلوانا چاہو تب بھی تم پر کوئی گناہ نہیں، جب کہ  ان کے  حوالہ کردو جو کچھ ان کو دینا طے کیا ہے قاعدہ کے موافق ۔ اور حق تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یقین رکھو کہ حق تعالیٰ تمھارے کیے ہوئے کاموں کو خوب دیکھ رہے ہیں ۔

احکام القرآن میں ہے : 

"والصحيح أنه لاحد لأقله ، وأكثره محدود بحولين مع التراضي بنص القرآن."

( أحكام القرآن ، سورة البقرة: آیة 233، ج: 1،ص: 273 ط: دار الکتب العلمیة ، بیروت)

فتح القدير للكمال ابن الهمام میں ہے:

"والحاصل حينئذ: يرضعن حولين لمن أراد من الآباء أن يتم الرضاعة بالأجرة، وهذا لا يقتضي أن انتهاء مدة الرضاعة مطلقا بالحولين، بل مدة استحقاق الأجرة بالإرضاع، ثم يدل على بقائها في الجملة قوله تعالى {فإن أرادا فصالا} [البقرة: 233] عطفا بالفاء على يرضعن حولين فعلق الفصال بعد الحولين على تراضيهما. وقد يقال: كون الدليل دل على بقاء مدة الرضاع المحرم بعد الحولين، فأين الدليل على انتهائها لستة أشهر بعدهما بحيث لو أرضع بعدها لا يقع التحريم..."

(کتاب الرضاع، ج:3، ص:444، ط: دار الفکر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712100225

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں