بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 محرم 1448ھ 06 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

بچپن، لڑکپن، جوانی اور بڑھاپے کی عمر۔ والدین پر اولاد کی تربیت اور نان و نفقہ کی ذمہ داری کی عمر


سوال

1۔بچپن، لڑکپن، جوانی اور بڑھاپے کی عمروں کی ابتدا و انتہا کے متعلق راہنمائی درکار ہے۔

2۔اولاد کی تربیت کی ذمہ داری کتنی عمر تک والدین پر لازم ہے کہ جس میں اولاد کی اچھائی اور برائی کے ذمہ دار والدین ہوتے ہیں؟

3۔اولاد کے نان و نفقہ کی ذمہ داری کتنی عمر تک والدین کے ذمہ ہے؟

4۔شادی کے بعد بیٹے کے گھر کا بند و بست کرنا والدین کے ذمہ ہے یا وہ خود کرے گا؟

جواب

1۔انسان کی عمر مختلف مراحل پر مشتمل ہوتی ہے۔ پیدائش سے بلوغت تک کا عرصہ بچپن کہلاتا ہے۔ پھر بلوغت سے اٹھارہ سال کی عمر تک کا عرصہ نوجوانی یا لڑکپن کہلاتا ہے۔ اٹھارہ سال سے چالیس سال تک کی عمر کو جوانی کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد بڑھاپا شروع ہو جاتا ہے۔

جوانی کی انتہا اور بڑھاپے کی ابتداکے متعلق مختلف اقوال موجود ہیں ، مثلاً بعض حضرات تینتیس (33) سال کی عمر تک جوانی اور اس کے بعد بڑھاپے کی ابتدا کے قائل ہیں، لیکن راجح قول یہی ہے کہ چالیس سال تک جوانی کی عمر رہتی ہے اور چالیس سال مکمل ہونے کے بعد سے بڑھاپا شروع ہوجاتا ہے۔

2۔والدین کے ذمہ لازم ہے کہ وہ بچپن سے ہی اپنی اولاد کی دینی تربیت کریں تاکہ ان کو نیکی کے کاموں کی عادت پڑجائے اور برائی کے کاموں سے دور رہنے کی عادت پڑجائے، اس دینی تربیت کی کوشش ہمیشہ ہی کرتے رہنا چاہیے، شرعاً اس کی انتہا کی کوئی خاص عمر تو نہیں ہے، البتہ اولاد کے بالغ ہونے اور اچھے برے کی تمیز حاصل ہونے تک والدین پر اس دینی تربیت کی ذمہ داری زیادہ ہے۔ البتہ جب اولاد ایسی عمر کو پہنچ جائے کہ وہ والدین کے ماتحت نہ رہے اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے لگے تو اگرچہ ایسی عمر میں والدین اولاد کے اچھے برے کاموں کے ذمہ دار نہیں ہوں گے لیکن پھر اپنی وسعت کے مطابق اولاد کو نصیحت کرنا ان کے ذمہ لازم ہوگا۔

3۔  بیٹے بالغ ہونے کے بعد جب تک کمانے کے قابل نہ ہو جائیں اور بیٹیوں کی شادی ہونے تک ان کا خرچہ والد کے ذمہ ہے،والد ان پر خرچ کرے گا۔

4۔شادی کے بعد بیٹے کے لیے الگ گھر کا بندوبست کرنا والدین کے ذمہ نہیں ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً." [الأحقاف: 15] 

"اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کاحکم فرمایا۔ اس کی ماں نے اس کو تکلیف سے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا اور اسے تکلیف کے ساتھ جنا، اور اس کا (پیٹ میں) اٹھانا اور اس کا دودھ چھڑانا (یعنی زمانۂ حمل و رضاعت) تیس ماہ (پر مشتمل) ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جاتا ہے اور (پھر) چالیس سال (کی پختہ عمر) کو پہنچتا ہے۔"

امام فخرالدین رازی نے مذکورہ آیت مبارکہ کی تفسیر میں لکھا ہے:

"اس آیت میں اشد (پوری قوت کو پہنچا) کی تفسیر میں اختلاف ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس سے مراد اٹھارہ سال اور اکثر مفسرین نے کہا کہ اس سے مراد تینتیس(33) سال ہے۔ فراء نے اس پر یہ دلیل قائم کی ہے اٹھارہ کی بہ نسبت تینتیس (33) سال، چالیس سال سے زیادہ قریب ہے۔ اور زجاج نے کہا کہ تینتیس (33) سال، اس لیے راجح ہیں کہ اس عمر میں انسان کے بدن کی قوت اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے۔"

"اختلف المفسّرون في تفسير الأشدّ، قال ابن عبّاس في رواية عطاء يريد ثماني عشرة سنة والأكثرون من المفسرين على أنّه ثلاثة وثلاثون سنة، واحتجّ الفرّاء عليه بأن قال إنّ الأربعين أقرب في النسق إلى ثلاث وثلاثين منها إلى ثمانية عشر. وقال الزجاج الأولى حمله على ثلاث وثلاثين سنة لأن هذا الوقت الذي يكمل فيه بدن الإنسان."

(التفسير الكبير، 28: 15، بيروت: دار الكتب العلمية)

المحدث الفاصل میں ہے:

"اختلف في ‌حد ‌الكهولة، فقيل: الكهل من الرجال: من زاد على ثلاثين سنة إلى الأربعين. وقيل: من ثلاث وثلاثين إلى الخمسين. وقيل: من اثنين وأربعين إلى ثلاث وستين." 

 (‌‌‌‌القول في فضل من جمع بين الرّواية والدّراية، القول في المحدّث والحدّ الذي إذا بلغه، ص: 355، ط: دار الذخائر)

المغرب في ترتيب المعرب ميں ہے:

"(ك هـ ل) : (‌الكهل) الذي انتهى شبابه وذلك بعد الأربعين."

 (باب اللام، اللام مع الهمزة، ص419، ط:دار الكتاب العربي)

تهذيب اللغة میں  ہے:

"قلت: وكلام العرب أن المجتمع من الرجال والمستوي هو الذي تم شبابه، وذلك إذا تمت له ثمان وعشرون سنة فيكون حينئذ مجتمعا ومستويا إلى أن تتم له ثلاث وثلاثون سنة، ثم يدخل في ‌حد ‌الكهولة، ويحتمل أن يكون بلوغ الأربعين غاية الاستواء وكمال العقل والحنكة، والله أعلم."

(باب السين والميم، ج:13، ص:85، ط: دار إحياء التراث العربي - بيروت)

لسان العرب میں ہے:

"قال أبو منصور: وكلام العرب أن المجتمع من الرجال والمستوي الذي تم شبابه، وذلك إذا تمت ثمان وعشرون سنة فيكون مجتمعا ومستويا إلى أن يتم له ثلاث وثلاثون سنة، ثم يدخل في ‌حد ‌الكهولة، ويحتمل أن يكون بلوغ الأربعين غاية الاستواء وكمال العقل. ومكان سوي وسي: مستو. وأرض سي: مستوية."

(‌‌‌‌و- ي، فصل السين المهملة، 14/ 414، ط: دار صادر - بيروت)

تفسير ابن عطية  المحرر الوجيز في تفسير الكتاب العزيز میں ہے:

"واختلف الناس في ‌حد ‌الكهولة، فقيل: الكهل ابن أربعين سنة، وقيل: ابن خمس وثلاثين، وقيل، ابن ثلاث وثلاثين، وقيل: ابن اثنين وثلاثين، وهذا حد أولها. وأما آخرها فاثنتان وخمسون، ثم يدخل سن الشيخوخة."

 (سورة آل عمران، 1/ 437، ط: دار الكتب العلمية - بيروت)

تاج العروس من جواهر القاموس میں ہے:

"وفي التهذيب:} المستوي من الرجال الذي بلغ الغاية من شبابه وتمام خلقه وعقله وذلك بتمام ثمان وعشرين إلى تمام ثلاثين ثم يدخل في ‌حد ‌الكهولة، ويحتمل كون بلوغ الأربعين غاية."

(سوو، ج:38، ص:331، ط: دار الهداية) 

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن معاذ قال: أوصاني رسول الله صلى الله عليه وسلم بعشر كلمات قال ... وأنفق على عيالك من طولك ولا ترفع عنهم ‌عصاك ‌أدبا وأخفهم في الله. رواه أحمد."

(كتاب الإيمان، باب الكبائر وعلامات النفاق، ج:1، ص:25، رقم:61، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(وأنفق على عيالك) : بكسر العين أي: من تجب عليك نفقته شرعا، ومحل بسطه كتب الفقه (من طولك) : بفتح أوله أي: فضل مالك، وفي معناه الكسب بقدر الوسع، والطاقة على طريق الاقتصاد، والوسط في المعتاد (ولا ترفع عنهم ‌عصاك ‌أدبا) : مفعول له أي: للتأديب لا للتعذيب، والمعنى إذا استحقوا الأدب بالضرب فلا تسامحهم كقوله تعالى: {واللاتي تخافون نشوزهن فعظوهن واهجروهن في المضاجع واضربوهن} [النساء: 34] على الترتيب الذكري (وأخفهم في الله) أي: أنذرهم في مخالفة أوامر الله. ونواهيه بالنصيحة، والتعليم، وبالحمل على مكارم الأخلاق من إطعام الفقير وإحسان اليتيم وبر الجيران وغير ذلك."

(كتاب الإيمان، باب الكبائر وعلامات النفاق، ج:1، ص:134، ط: دار الفكر، بيروت - لبنان)

سنن أبوداود میں ہے:

" عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مروا أولادكم بالصلاة وهم أبناء سبع سنين، واضربوهم عليها، وهم أبناء عشر وفرقوا بينهم في المضاجع."

(کتاب الصلاۃ، باب متی یومر الغلام  بالصلاۃ، ج:1، ص:133، ط: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(واضربوهم عليها) : أي: على ترك الصلاة (وهم أبناء عشر سنين) : لأنهم بلغوا، أو قاربوا البلوغ". 

(کتاب الصلاة، ج:2، ص:512، ط:دار الفكر، بيروت)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر ... (وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقاً وزمن."

(کتاب الطلاق، باب النفقة، ج:3،ص:612، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100618

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں