بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 محرم 1448ھ 08 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

بچوں سے مالی جرمانہ وصول کرنے اور اس میں معاونت کرنے کا شرعی حکم


سوال

میری والدہ ایک مدرسے میں بچوں کو قرآن پاک، ناظرہ اور نورانی قاعدہ پڑھاتی ہیں۔ مدرسے کی بڑی باجی (ناظمہ) کا قانون ہے کہ جو بچہ بغیر بتائے چھٹی کرے، اس سے 20 روپے جرمانہ لیا جائے۔ بڑی باجی کے کہنے پر میری والدہ بچوں سے یہ جرمانہ وصول کر کے بڑی باجی کو دے دیتی ہیں، اور بڑی باجی معلوم نہیں اس رقم کا کیا کرتی ہیں۔ مدرسے کی زمین کے مالک نے بڑی باجی کو جرمانہ لینے کا کوئی حکم نہیں دیا۔معلوم یہ کرنا ہے کہ:

1۔بچوں سے یہ جرمانہ لینا جائز ہے یا ناجائز؟بڑی باجی جو یہ رقم لیتی ہیں، یہ ان کے لیے حلال ہے یا حرام؟

2۔میری والدہ جو بڑی باجی کے کہنے پر بچوں سے پیسے لیتی ہیں، وہ گناہ گار ہیں یا نہیں؟

3۔اس پورے معاملے میں ظالم کون ہے؟

جواب

1۔صورتِ مسئولہ میں بچوں سے جرمانہ لینا جائز نہیں ہے۔ جن بچوں سے جرمانہ لیا گیا ہے، وہ رقم انہیں واپس کی جائے۔ نیز اس رقم کو مدرسہ کے اخراجات میں استعمال کرنا یا کسی استاد کا اسے اپنے لیے لینا بھی ناجائز ہے۔

 2۔صورت مسئولہ میں سائل کی والدہ کا اس عمل میں شریک ہونا ناجائز کام میں تعاون کے مترادف ہے، کیونکہ اس قسم کی رقم کا لینا شرعاً ثابت نہیں۔ متاخرین فقہاء نے بھی ایسے جرمانوں کے جواز کا فتویٰ دینے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ اس سے ظالموں کو لوگوں کا مال ناحق لینے کا راستہ ملتا ہے، لہٰذا والدہ کو چاہیے کہ وہ اس قسم کی وصولی سے معذرت کریں تاکہ کسی کی حق تلفی اور گناہ کے کام میں معاون نہ بنیں۔

3۔صورتِ مسئولہ میں اگر مدرسہ کی بڑی باجی نے جرمانے کی رقم وصول کرکے اپنے پاس رکھ لی ہو اور اسے واپس کرنے کی نیت بھی نہ ہو تو ان کا یہ عمل ناجائز اور گناہ ہے۔ اسی وجہ سے وہ اس معاملے میں قصوروار ہوں گی ،اور ان پر لازم ہے کہ رقم اصل مالکان کو واپس کریں۔

قران حکیم میں ہے:

وتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (المائدہ2)

ترجمہ:اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی اعانت کرتے رہو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو اور الله تعالیٰ سے ڈرا کرو بلاشبہ الله تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں۔(بیان القرآن)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان (قوله وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.

وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى. وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ.

والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال، وسيذكر الشارح في الكفالة عن الطرسوسي أن مصادرة السلطان لأرباب الأموال لا تجوز إلا لعمال بيت المال: أي إذا كان يردها لبيت المال"

(كتاب الحدود، باب التعزير، ج:4، ص:62، ط:سعيد)

مجمع الانہر میں ہے:

"وفي البحر ولا يكون ‌التعزير ‌بأخذ ‌المال من الجاني في المذهب لكن في الخلاصة سمعت عن ثقة أن ‌التعزير ‌بأخذ ‌المال إن رأى القاضي ذلك، أو الوالي جاز ومن جملة ذلك رجل لا يحضر الجماعة يجوز تعزيره بأخذ المال ولم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يؤخذ فيمسك مدة للزجر ثم يعيده."

(كتاب الحدود، فصل في التعزير، ج:1، ص:609، ط:دارإحياء التراث العربي)

کفایت المفتی میں ہے:

”جرمانہ کا روپیہ وصول کرنا ناجائز ہے، جس سے لیا گیا ہے اسے واپس کیا جائے، کسی نیک کام میں بدون رضامندی مالک کے خرچ نہیں ہوسکتا، ہاں، اگر وہ شخص جس سے روپیہ وصول کیا گیا ہے خود اجازت دے دے اور بجائے واپس لینے کے مدرسہ میں لگا دینا پسند کرے تو پھر مدرسہ میں لگایا جاسکتا ہے۔“

(کتاب الحدود والجنایات، عنوان:مالی جرمانہ جائز نہیں، وصول شدہ رقم مالک کو واپس کی جائے، ج:2، ص:210، ط:دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101109

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں