
کیا بچوں ,مجذوب اور مجنون کا مسجد میں جماعت کے دوران یا اس کے علاوہ آنا جائز ہے؟
ایسےچھوٹے بچے جو مسجد کے آداب اور پاکی کا خیال نہیں رکھ سکتے اور ان کی وجہ سے دیگر نمازیوں کی نماز میں خلل پڑتا ہو ان کو مسجد میں لانا مناسب نہیں ہے، البتہ سمجھ دار بچے جو مسجد کی پاکی اور آداب کا خیال رکھ سکتے ہوں ان کو نماز کی ترغیب کے لیے مسجد میں لانا جائز بلکہ مستحسن ہے؛ تاکہ ان کو نماز کی عادت ہو، البتہ ساتھ لانے والے کو چاہیے کہ وہ بچوں کو اپنے قریب کھڑا کرکے نماز پڑھائیں؛ تاکہ کسی کی نماز میں خلل واقع نہ ہو۔
نیز بچے کے سرپرست کا بچے کو مسجد میں ساتھ لاکر اسے شور مچاتے اور کھیلتے ہوئے چھوڑدینا، سمجھانے کی کوشش نہ کرنا، یا اتنی کم عمر کے بچے لانا جن سے مسجد کی ناپاکی کا اندیشہ ہو، سرپرست کے حق میں مسجد کی بے ادبی اور گناہ ہے۔
نیز نمازوں کے علاوہ اوقات میں چھوٹے بچوں کو مسجد لانے کا بھی یہی حکم ہے، اور مجنون کا بھی یہی حکم ہے، "مجذوب" سے مراد اگر مجنون ہے تو اس کو لانا بھی جائز نہیں ہے۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 656)
"ويحرم إدخال صبيان ومجانين حيث غلب تنجيسهم وإلا فيكره
(قوله ويحرم إلخ) لما أخرجه المنذري " مرفوعا «جنبوا مساجدكم صبيانكم ومجانينكم، وبيعكم وشراءكم، ورفع أصواتكم، وسل سيوفكم، وإقامة حدودكم، وجمروها في الجمع، واجعلوا على أبوابها المطاهر " بحر.
(کتاب الصلاۃ،باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیہا،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144108201363
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن