بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بچوں کو مسجد میں لانے کا حکم


سوال

بچوں کو مسجد میں لےجانا؟

جواب

نابالغ بچوں کو مسجد لانے میں مندرجہ ذیل تفصیل ہے:

الف) نابالغ بچے اتنے سمجھ دار ہوں کہ وہ خود  مسجد کے آداب کی رعایت کرتے ہوں یا اپنے  ولی کے سمجھانے پر رعایت کرتے ہوں  اور ان سے مسجد کی تلویث کا خطرہ بھی نہ ہو تو ایسے بچوں کا مسجد  میں لانا بغیر کراہت جائز ہے ۔

ب) وہ نا بالغ بچہ جن سے مسجد کی تلویث کا خطرہ تو نہ ہو لیکن مسجد کے دیگر آداب کی رعایت نہ کرتے ہوں تو ان کو مسجد لانا مکروہ تنزیہی ہے۔

ج) وہ نا بالغ بچہ جن سے مسجد کی تلویث کا غالب گمان ہو   ان کو مسجد لانا ناجائز اور مکروہ تحریمی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ويحرم إدخال صبيان ومجانين حيث غلب تنجيسهم وإلا فيكره»

(قوله ويحرم إلخ) لما أخرجه المنذري " مرفوعا «جنبوا مساجدكم صبيانكم ومجانينكم، وبيعكم وشراءكم، ورفع أصواتكم، وسل سيوفكم، وإقامة حدودكم، وجمروها في الجمع، واجعلوا على أبوابها المطاهر» " بحر."

(کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ ج نمبر ۱ ص نمبر ۶۵۶،ا یچ ایم سعید)

تقریرات رافعی میں ہے:

"(قول الشارح و الا فيكره) اي حيث لم يبالوا براعاة حق المسجد من مسح نخامة او تفل في المسجد والا فاذا كانوا مميزين و يعظمون المساجد بتعلم من وليهم فلا كراهة."

(کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ،ص نمبر ۸۴،دار احیاء التراث العربی)

نیل الاوطار میں ہے:

"وعن أبي هريرة قال: «كنا نصلي مع النبي - صلى الله عليه وسلم - العشاء، فإذا سجد وثب الحسن والحسين على ظهره فإذا رفع رأسه أخذهما من خلفه أخذا رفيقا ووضعهما على الأرض، فإذا عاد عادا حتى قضى صلاته، ثم أقعد أحدهما على فخذيه، قال: فقمت إليه، فقلت: يا رسول الله أردهما فبرقت برقة، فقال لهما: الحقا بأمكما فمكث ضوؤها حتى دخلا» . رواه أحمد)

وفيه جواز إدخال الصبيان المساجد. وقد أخرج الطبراني من حديث معاذ بن جبل قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «جنبوا مساجدكم صبيانكم وخصوماتكم وحدودكم وشراءكم وبيعكم وجمروها يوم جمعكم واجعلوا على أبوابها مطاهركم» ولكن الراوي له عن معاذ مكحول وهو لم يسمع منه، وأخرج ابن ماجه من حديث واثلة بن الأسقع أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «جنبوا مساجدكم صبيانكم ومجانينكم وشراءكم وبيعكم وخصوماتكم ورفع أصواتكم وإقامة حدودكم وسل سيوفكم واتخذوا على أبوابها المطاهر وجمروها في الجمع» وفي إسناده الحارث بن شهاب وهو ضعيف. وقد عارض هذين الحديثين الضعيفين حديث أمامة المتقدم وهو متفق عليه. وحديث الباب وحديث أنس أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «إني لأسمع بكاء الصبي وأنا في الصلاة فأخفف، مخافة أن تفتتن أمه» وهو متفق عليه فيجمع بين الأحاديث بحمل الأمر بالتجنيب على الندب كما قال العراقي في شرح الترمذي، أو بأنها تنزه المساجد عمن لا يؤمن حدثه فيها."

(کتاب اللباس، باب حمل المحدث و المستجمر فی الصلاۃ و ثیاب الصغار، ج نمبر ۲، ص نمبر ۱۴۳دار الحدیث)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100443

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں