
اگر دادایا دادی یا ددھیال میں سے کوئی بچے نہ رکھے تو کیا نانایا نانی کے پاس چھوڑ کے حج پر جایا جا سکتا ہے، گویا حج فرض ہو لیکن صرف بچوں کی وجہ سےتاخیر کی جا رہی ہو۔
واضح رہے کہ حج اس آزادعاقل بالغ مسلمان شخص پرفرض ہوتاہےجس کےپاس زندگی کی بنیادی ضروریات جیسے:رہن سہن، بدن کےکپڑےگھریلوضروریات کےاخراجات ،اپنےاہل وعیال کے واجبی خرچوں کے علاوہ اتنی اضافی رقم موجود ہوجس سے حج کےتمام ضروری اخراجات جیسے:آنے جانے کاکرایہ وہاں کےقیام وطعام کاخرچہ وغیرہ پورے ہوسکتےہوں،
صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ شرائط پوری ہیں تو سائل پر حج فرض ہوگا،بچوں کو نانا نانی کے پاس چھوڑنے میں کوئی حرج نہیں اور جس شخص پر حج فرض ہو جائے اس پر لازم ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو حج ادا کر لے، حدیث شریف میں ہے: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حج کی ادائیگی میں جلدی کرو ، کسی کو کیا خبر کہ بعد میں کوئی مرض یا کوئی اور ضرورت لاحق ہو جائے،حج فرض ہونے کے بعد وقت ملنے پر بھی بلا عذرِ شرعی تاخیر کرنا گناہ ہے،تاہم اگر زندگی میں ادا کر لیا تو ادا ہو جائے گا اور تاخیر کا گناہ بھی نہ رہے گا، اور اگر زندگی میں ادا نہ کر سکا تو گناہ گار ہو گا۔
البحرالرائق میں ہے:
"وشرائطه ثلاثة شرائط وجوب وشرائط وجوب أداء وشرائط صحة فالأولى ثمانية على الأصح الإسلام والعقل والبلوغ والحرية والوقت والقدرة على الزاد والقدرة على الراحلة والعلم بكون الحج فرضا".
(کتاب الحج، فی بدایتہ، ج:2، ص:331، ط:دارالکتب الاسلامی)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(و منها القدرة على الزاد و الراحلة) بطريق الملك أو الإجارة ... و تفسير ملك الزاد و الراحلة أن يكون له مال فاضل عن حاجته، و هو ما سوى مسكنه و لبسه و خدمه، و أثاث بيته قدر ما يبلغه إلى مكة ذاهبًا و جائيًا راكبًا لا ماشيًا و سوى ما يقضي به ديونه و يمسك لنفقة عياله، و مرمة مسكنه و نحوه إلى وقت انصرافه، كذا في محيط السرخسي. و العيال من تلزمه نفقته، كذا في البحر الرائق".
(کتاب المناسک، الباب الاول فی فرضیتہ وشرائطہ، ج:1، ص:217، ط:ایچ ایم سعید)
حدیث شریف میں ہے:
"تعجلوا الخروج إلى مكة فإن أحدكم لايدري ما يعرض له من مرض أو حاجة. "الديلمي عن ابن عباس".
(كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال، ج:5، ص:16، رقم الحدیث:11851، ط:مؤسسة الرسالة)
فتاوی شامی میں ہے:
" (على الفور) في العام الأول عند الثاني وأصح الروايتين عن الإمام ومالك وأحمد فيفسق وترد شهادته بتأخيره أي سنينا لأن تأخيره صغيرة وبارتكابه مرة لا يفسق إلا بالإصرار بحر ووجهه أن الفورية ظنية لأن دليل الاحتياط ظني، ولذا أجمعوا أنه لو تراخى كان أداء وإن أثم بموته قبله وقالوا لو لم يحج حتى أتلف ماله وسعه أن يستقرض ويحج ولو غير قادر على وفائه ويرجى أن لا يؤاخذه الله بذلك، أي لو ناويا وفاء إذا قدر كما قيده في الظهيرية.
(قوله: كان أداء) أي ويسقط عنه الإثم اتفاقا كما في البحر قيل: المراد إثم تفويت الحج لا إثم التأخير. قلت: لا يخفى ما فيه بل الظاهر أن الصواب إثم التأخير إذ بعد الأداء لا تفويت وفي الفتح: ويأثم بالتأخير عن أول سني الإمكان فلو حج بعده ارتفع الإثم اهـ وفي القهستاني: فيأثم عند الشيخين بالتأخير إلى غيره بلا عذر إلا إذا أدى ولو في آخر عمره فإنه رافع للإثم بلا خلاف. "
(کتاب الحج، ج:2، ص:456، ط:ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100515
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن