بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بچوں کی تربیت میں خلل واقع ہونے کی وجہ سے چھ ہفتے کے حمل کوساقط کرنے کاحکم


سوال

مفتی صاحب! میری شادی کو تیرہ سال ہوچکے ہیں اور میرے پانچ بچے ہیں، سب سے بڑا بیٹا گیارہ سال کا ہے، دوسرے نمبر پر بیٹی ہے، جس کی عمر نو سال ہے، تیسری اور چوتھی بیٹیاں ہیں، جن کی عمریں پانچ اور چار سال ہیں اور سب سے آخر میں جو بیٹی ہے، اُس کی عمر ایک سال ہے۔

ولادت کے سلسلے میں جس لیڈی ڈاکٹر کے پاس میں جاتی ہوں، اُس نے مجھے تیسری بچی کی پیدائش کے وقت ہی کہا تھا کہ کوائل لگوالو، کیوں کہ بچوں میں وقفہ نہ ہونے کی وجہ سے بچوں میں کمزوری ہوتی ہے، لیکن میں نے اتنا دھیان نہیں دیا۔

چوتھی بیٹی کی پیدائش کے بعد بھی ڈاکٹر نے کوائل لگوانے کو کہا، لیکن میں نے نہیں لگوائی،جب پانچویں بیٹی پیدا ہوئی تو ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اب تو تم کوائل لگواہی لو، کیوں کہ تمہاری یہ والی بیٹی کافی کمزور ہے، تو میں نے کوائل لگوالی۔

مسئلہ یہ ہے کہ مجھے دو دن پہلے اس بات کا ادراک ہوا کہ میں ایک مرتبہ پھر حاملہ ہوگئی ہوں ،لیکن مجھے اس مرتبہ بالکل بھی ہمت نہیں ہے اور پے درپے ولادت کی وجہ سے بچوں کو بالکل بھی توجہ نہیں مل پارہی ہے،میرے شوہر بھی تقریباً پندرہ دن کراچی میں اور پندرہ دن دبئی میں ہوتے ہیں اور گھر کے کام بھی کرنے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے آخری کے چند ماہ میں کسی بچے کو بھی توجہ نہیں دے سکتی، جس کی وجہ سے سارے بچے ماں کی عدم توجہی کا شکار ہوتے ہیں، کیوں کہ وہ اپنے کام خود نہیں کرسکتے اور میرے میں کرنے کی بالکل ہمت نہیں ہوتی، بالخصوص بالکل چھوٹی بچیاں، کیوں کہ وہ تو زیادہ توجہ اور وقت مانگتی ہیں ۔

میرے تمام احوال کو دیکھتے ہوئے یہ بتادیں کہ میں اوپر ذکر کی گئی مجبوریوں اور اعذار کی بنیاد پر چھ ہفتے کے حمل کو ضائع کرواسکتی ہوں؟

ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ پانچویں بیٹی کی پیدائش آپریشن کے ذریعے کی جائے گی، لیکن اللہ کا کرم ہوا کہ آپریشن کی ضرورت پیش نہیں آئی، لیکن اس مرتبہ اگر ولادت ہوئی تو آپریشن کے ذریعے ہی ہوگی ،اگر آپریشن ہوا تو میں بالکل ہی بستر سے لگ جاؤں گی، تو میرے پانچوں بچوں کو کون سنبھالے گا؟ کون گھر کے کام کرے گا؟ کیوں کہ گھر میں کوئی بھی بچوں کو سنبھالنے میں تعاون نہیں کرتا ،میرے شوہر بھی کام کی مصروفیات کی وجہ سے بچوں کو سنبھالنے میں میرا ساتھ نہیں دے سکتے،نیز کام میں ہاتھ بٹانے کے لیے میرے سسرال کی طرف سے ماسی رکھنے کی بھی اجازت نہیں۔ ایسی صورتِ حال میں،چھ ہفتے کے حمل کو ضائع کرواسکتی ہوں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں کوئی شدید شرعی عذر موجود نہیں ہے، اس لیے حمل ساقط کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔البتہ شوہر چوں کہ مالی طور پر صاحبِ حیثیت ہے، اس لیے گھر کے کام کاج کے لیے ملازمہ (ماسی) کا انتظام کرنا شوہر پر لازم ہے، کسی کے لیے اس سہولت دینے میں رکاوٹ ڈالنا جائز نہیں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل اهـ.."

( کتاب النکاح، باب نکاح الرقیق، مطلب في حكم إسقاط الحمل، ج:3، ج:176، ط:سعید)

وفیه أیضاً:

"(ولو له أولاد لا يكفيه خادم واحد فرض عليه) نفقة (لخادمين أو أكثر اتفاقا) فتح.

(قوله فرض عليه لخادمين أو أكثر) ظاهره أن الخدم لها أي لا يلزمه نفقة أكثر من خادم لها إلا إذا احتاجهم لأولاده؛ لأنها لو لم يكن لها خدم واحتاج أولاده إلى أكثر من خادم يلزمه؛ لأن ذلك من جملة نفقتهم كما لا يخفى".

 (کتاب الطلاق، باب النفقة، مطلب في نفقة خادم المرأة، ج:3، ص:589، ط:سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144703100583

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں