بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بچوں کی پیدائش میں وقفہ کرنے کا شرعی حکم


سوال

بچہ بیدا ہونے کے بعد کیا صورت اختیار کریں کہ دو،تین سال تک دوسرا بچہ پیدا  نہ  ہو؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بچے کی پیدائش کے بعد  دا تین سال تک بچے کو دودھ پلانے اور اس کی دیکھ بھال کی خاطر  اگلے بچے کی پیدائش میں وقفے کے لیے معالج کی راہ نمائی سے  ایسی مانعِ حمل تدبیروں کو اپنانے کی گنجائش ہے جو وقتی ہوں اور جب چاہیں اُنہیں ترک کرکے توالد وتناسل کا سلسلہ جاری کیا جاسکتا ہو،مستقل بنیاد پر  آپریشن کرکے بچہ دانی  نکلوانا یا نس بندی کروانا یا کوئی ایسا طریقہ اپنانا جس سے توالد وتناسل   (بچہ پیدا کرنے) کی صلاحیت بالکل ختم ہوجائے، شرعاً اس کی اجازت نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"[تنبيه] أخذ في النهر من هذا ومما قدمه الشارح عن الخانية والكمال أنه يجوز لها سد فم رحمها كما تفعله النساء مخالفا لما بحثه في البحر من أنه ينبغي أن يكون حراما بغير إذن الزوج قياسا على عزله بغير إذنها.

قلت: لكن في البزازية أن له منع امرأته عن العزل. اهـ. نعم النظر إلى فساد الزمان يفيد الجواز من الجانبين. فما في البحر مبني على ما هو أصل المذهب، وما في النهر على ما قاله المشايخ والله الموفق."

(کتاب النکاح، ج:3، ص:176، ط:سعید)

فتاویٰ رحیمیہ میں ہے:

"ضبط تولید کا شرعی حکم کیا ہے؟

(سوال ۲۳۹ )آپریشن کے ذریعہ بچہ دانی نکالنا کیساہے مرض وصحت میں  کیا حکم ہے ؟ بعض لوگ مفلسی کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں  ۔ کیا یہ جائز ہے ؟

(الجواب)اگر ضرورت محسوس ہوتو بحالت عذر جب تک عذر باقی ہے چند دن کے لیے ضبط حمل کی تبدیر و معالجہ کرسکتے ہیں ،لیکن بدون شرعی عذر کے بچہ دانی نکال دائماً اولاد سے محروم ہونے کی کوشش کفران نعمت ہے. . . لہذا معمولی عذر میں  اس کی اجازت نہیں  ۔ ہاں  اگر عورت کی صحت خراب ہونے کی وجہ سے اس میں  ضبط حمل کی قوت نہ رہی ہو اور جان کا خطرہ ہو، اور آپریشن کے بغیر چارہ کا ر نہ ہو اور اس کی اجازت مسلمان دیندار حکم حاذق یا مسلمان دیندار تجربہ کا ر ڈاکٹر دیتا ہوتو آپریشن کر سکتے ہیں  ۔"

(کتاب الحظر والاباحۃ، ج:10، ص: 182، ط: دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704102152

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں