بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بچوں کی خاطر میاں بیوی کا رات کے وقت الگ الگ سونے کا شرعی حکم


سوال

شوہرکا بیوی کے ساتھ سونا ضروری ہے یا نہیں؟ الحمدللہ دن بھر ساتھ رہتے ہیں، رات کو سوتے وقت الگ الگ سوتے ہیں ، کیا بچوں کی وجہ سے ایسا کرسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے  شریعت کا اصل اور عمومی حکم تو  یہی ہے کہ میاں بیوی ایک ساتھ  ایک ہی بستر پر آرام کریں، اسی بنا پر بعض اہلِ علم نے اسے سنت قرار دیا ہے؛ تاہم  کسی معقول و معتبر وجہ کی بنا پر علیحدہ علیحدہ سونا بھی درست ہے، مثلاً  بیوی کے مخصوص ایام میں ایک ساتھ سونے کی صور ت میں فتنہ کا اندیشہ ہو،بچوں کی موجودگی یا بچوں کے باشعور ہونے کی صورت میں، یا پھر شوہر کی تھکن یا آرام کی ضرورت وغیرہ کے باعث رات کے وقت الگ الگ بستر پر سونا چاہیں تو كوئی حرج نہیں هے۔ لہذا صورت مسئولہ میں میاں بیوی باہمی رضامندی سے بچوں کی خاطر  الگ سو سکتے ہیں،ایک ساتھ سونا ضروری اور لازمی نہیں ہے،البتہ ایسی دائمی علیحدگی اختیار کرنا جس سے میاں بیوی میں سے کسی  كے حقوق متاثر ہوں، شرعاً درست نہیں ہے۔ 

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"وأما تعديد الفراش للزوج فلا بأس به لأنه قد يحتاج كل واحد منهما إلى فراش عند المرض ونحوه . واستدل بعضهم بهذا أنه يلزمه النوم مع امرأته ، وأن له الانفراد عنها بفراش وهو ضعيف؛ لأن النوم من الزوجة وإن كان ليس بواجب، لكنه معلوم بدليل آخر أن النوم معها بغير عذر أفضل: هو ظاهر فعل رسول الله - صلى الله عليه وسلم - . قال الطيبي: ولأن قيامه من فراشها مع ميل النفس إليها متوجها إلى التهجد أصعب وأشق: ومن ثم ورد : " عجب ربنا من رجلين ، رجل ثار عن وطائه ولحافه من بين حبه وأهله إلى صلاته، فيقول الله لملائكته: انظروا إلى عبدي ثار عن فراشه ووطائه من بين حبه وأهله إلى صلاته رغبة فيما عندي وشفقا فيما عندي. " الحديث. قلت : لا كلام في هذا، وإنما الكلام في الاستدلال بالحديث على بيان الجواز وعدم الوجوب، وهو لا ينافي الأفضلية المستفادة من سائر أقواله وأفعاله - صلى الله عليه وسلم - فقوله ضعيف غير صحيح ."

(کتاب اللباس، ج:7، ص:2766، ط:دارالفكر)

معالم السنن میں ہے:

"قال أبو داود: حدثنا يزيد بن خالد الهمداني حدثنا ابن وهب، عن أبي هانىء، عن أبي عبد الرحمن الحبلي عن جابر بن عبد الله قال ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الفرش فقال فراش للرجل وفراش للمرأة وفراش للضيف والرابع للشيطان.

قال الشيخ: فيه دليل على أن المستحب في أدب ‌السنة ‌أن ‌يبيت ‌الرجل وحده على فراش وزوجته على فراش آخر ولو كان المستحب لهما أن يبيتا معا على فراش واحد لكان لا يرخص له في اتخاذه فراشين لنفسه ولزوجته وهو إنما يحسن له مذهب الاقتصاد والاقتصار على أقل ما تدعو إليه الحاجة والله أعلم."

(كتاب اللباس،‌‌ومن باب في الفرش، ج: 4، ص: 205، ط: المطبعة العلمية - حلب)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101904

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں