
بچوں کو مسجد میں لانااور مسجد میں شور کرنا کیسا ہے؟
شریعتِ مطہرہ کا حسن ہے کہ اس نے فوائد کی بھی رعایت رکھی ہے اور نقصانات سے بچنے کابھی اہتما م کیا ہے، شریعت کی تعلیمات افراط وتفریط کے درمیان اعتدال پر مبنی ہیں، بچوں کو مسجد میں لانے یا نہ لانے سے متعلق بھی احکاماتِ شرعیہ اعتدال پر مبنی ہیں، مطلقًا ہر قسم کے بچوں کو لانا جائز ہے ، نہ ہی ہر قسم کے بچوں کو لانا منع ہے۔
بچوں کو مسجد میں لانے میں جہاں یہ اندیشہ ہے کہ مسجد میں شوروشغب ہوگا ،عبادات کاماحول متاثر ہوگا اوراپنی کم عمری کی وجہ سے بچے بسااوقات مسجد میں گندگی بھی کردیتے ہیں، جب کہ مسجد شعائر اللہ میں داخل ہے، اس لیے اس کا تقدس و احترام بھی لازم ہے، اور وہاں ہر قسم کا شور وشغب، بلکہ دنیاوی باتیں کرنا بھی منع ہے،لیکن دوسری طرف بچوں کواپنےساتھ مسجدلانے میں یہ فوائدبھی ہیں کہ ابتدا ہی سے ان کی مسجد میں آکر نماز پڑھنے کی عادت بن جائے گی، جو کہ پسندیدہ چیز ہے۔
بصورتِ مسئولہ جو بچے بالغ ہیں یا قریب البلوغ ہیں جیسے بارہ تیرہ سال کے بچے ان کو مسجد میں لانا لازم بھی ہے،کیوں کہ شرعی احکام ان کی طرف متوجہ ہوگئے ہیں، بلکہ جو دس سال کے ہوچکے ہیں،تو ان کو تو مردوں کے صفوں کے درمیان میں کھڑا کردیا جائے،باقی چھوٹے بچے جو سات سال سے بھی کم ہےجومسجد کے آداب اور پاکی کا خیال نہیں رکھ سکتےاور ان کی وجہ سے دیگر نمازیوں کی نماز میں خلل پڑتا ہے، ان کو مسجد میں لانا بالکل مناسب نہیں ہے، البتہ سمجھ دار بچے جو مسجد کی پاکی اور آداب کا خیال رکھ سکتے ہوں، جو عام طور پر سات سال سے دس سال کے درمیان ہیں، جن کے لیے نماز کا تربتیی حکم ہے، ان کو نماز کی ترغیب کے لیے مسجد میں لانا جائز ہے، البتہ ساتھ لانے والے کو چاہیے کہ وہ بچوں کو اپنے قریب کھڑا کرکے نماز پڑھائیں؛ تاکہ کسی کی نماز میں خلل واقع نہ ہو۔
باقی اگر کبھی بچے شور کریں تو ان کو پیا رمحبت سے سمجھا دیا جائے، الگ الگ کھڑا کردیا جائے، لیکن انہیں جھڑک دینا درست طرزِ عمل نہیں ،بچے کامسجد میں شور مچانا اتنا گناہ نہیں ہے، جتنا اس کو روکنے کے لیے کسی عاقل بالغ کا شور مچانے سے ہوتا ہے،مسجد میں اپنی آوا ز بلند کرلینا یہ آدابِ مسجد کے خلاف اور گناہ کا باعث ہے، اس سے اجتناب کیا جائے، اسی طرح بچے کے سرپرست کا بے شعور بچوں کو مسجد میں لانا،اور پھر لاکر اسے شور مچاتے اور کھیلتے ہوئے چھوڑدینا،کنٹرول نہ کرنا، جن سے مسجد کی ناپاکی یا بے حرمتی کا اندیشہ ہو، درست نہیں ،ایسی صورت میں اس بے حرمتی اور نمازیوں کی نماز میں خلل پیدا کرنے کا گناہ ان بچوں کو مسجد میں لانےوالے سرپرستوں کی گردن پر ہوتا ہے۔
مصنف ابنِ ابی شیبہ میں ہے:
"حدثنا وكيع عن داود بن سوار عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: قال نبي الله -صلى الله عليه وسلم-: "مروا صبيانكم بالصلاة إذا بلغوا سبعا، واضربوهم عليها إذا بلغوا عشرا، وفرقوا بينهم في المضاجع."
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے: ”جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو جائے تو تم ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انہیں اس پر (یعنی نماز نہ پڑھنے پر) مارو، اور ان کے سونے کے بستر الگ کر دو“۔
(متى يؤمر الصبي بالصلاة، ج:3، ص:363، ط:دار كنوز)
نيل الأوطار میں ہے :
(وعن أبي هريرة قال: «كنا نصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم العشاء، فإذا سجد وثب الحسن والحسين على ظهره فإذا رفع رأسه أخذهما من خلفه أخذا رفيقا ووضعهما على الأرض، فإذا عاد عادا حتى قضى صلاته، ثم أقعد أحدهما على فخذيه، قال: فقمت إليه، فقلت: يا رسول الله أردهما فبرقت برقة، فقال لهما: الحقا بأمكما فمكث ضوؤها حتى دخلا» . رواه أحمد) . الحديث أخرجه أيضا ابن عساكر وفي إسناد أحمد كامل بن العلاء وفيه مقال معروف، وهو يدل على أن مثل هذا الفعل الذي وقع منه صلى الله عليه وسلم غير مفسد للصلاة.
وفيه التصريح بأن ذلك كان في الفريضة، وقد تقدم الكلام في شرح الحديث الذي قبل هذا.
وفيه جواز إدخال الصبيان المساجد. وقد أخرج الطبراني من حديث معاذ بن جبل قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «جنبوا مساجدكم صبيانكم وخصوماتكم وحدودكم وشراءكم وبيعكم وجمروها يوم جمعكم واجعلوا على أبوابها مطاهركم» ولكن الراوي له عن معاذ مكحول وهو لم يسمع منه، وأخرج ابن ماجه من حديث واثلة بن الأسقع أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «جنبوا مساجدكم صبيانكم ومجانينكم وشراءكم وبيعكم وخصوماتكم ورفع أصواتكم وإقامة حدودكم وسل سيوفكم واتخذوا على أبوابها المطاهر وجمروها في الجمع» وفي إسناده الحارث بن شهاب وهو ضعيف. وقد عارض هذين الحديثين الضعيفين حديث أمامة المتقدم وهو متفق عليه. وحديث الباب وحديث أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إني لأسمع بكاء الصبي وأنا في الصلاة فأخفف، مخافة أن تفتتن أمه» وهو متفق عليه فيجمع بين الأحاديث بحمل الأمر بالتجنيب على الندب كما قال العراقي في شرح الترمذي، أو بأنها تنزه المساجد عمن لا يؤمن حدثه فيها."
(کتاب اللباس، باب حمل المحدث والمستجمر في الصلاة وثياب الصغار وما شك في نجاسته، ج:2، ص:144، ط:دار الحديث- مصر)
فتاوی شامی میں ہے:
" ويحرم إدخال صبيان ومجانين حيث غلب تنجيسهم وإلا فيكره
(قوله: ويحرم إلخ) لما أخرجه المنذري " مرفوعًا «جنبوا مساجدكم صبيانكم ومجانينكم، وبيعكم وشراءكم، ورفع أصواتكم، وسل سيوفكم، وإقامة حدودكم، وجمروها في الجمع، واجعلوا على أبوابها المطاهر» " بحر. والمطاهر جمع مطهرة بكسر الميم، والفتح لغة: وهو كل إناء يتطهر به كما في المصباح، والمراد بالحرمة كراهة التحريم لظنية الدليل. وأما قوله تعالى: {أن طهرا بيتي للطائفين} [البقرة: 125]- الآية فيحتمل الطهارة من أعمال أهل الشرك تأمل؛ وعليه فقوله وإلا فيكره أي تنزيها تأمل."
(کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج:1، ص:656، ط:سعید)
البحر الرائق میں ہے:
"(قوله: ويصف الرجال ثم الصبيان ثم النساء)؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: ليليني منكم أولو الأحلام والنهى...و لم أر صريحًا حكم ما إذا صلى ومعه رجل و صبيّ، و إن كان داخلاً تحت قوله: "و الاثنان خلفه" و ظاهر حديث أنس أنه يسوي بين الرجل و الصبي و يكونان خلفه؛ فإنه قال: فصففت أنا و اليتيم وراءه، و العجوز من ورائنا، و يقتضي أيضًا أن الصبيّ الواحد لايكون منفردًا عن صف الرجال بل يدخل في صفهم، و أن محلّ هذا الترتيب إنما هو عند حضور جمع من الرجال و جمع من الصبيان فحينئذ تؤخر الصبيان".
(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:3، ص:416، ط:دار الفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم، بحر بحثاً.
وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. و عند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى".
(باب الحضانة، ج:3، ص:566، ط:سعید)
فتاوی رحیمیہ میں ہے :
"(سوال ۱۳۴) ہمارے یہاں بعض مصلی اپنے ساتھ چھوٹے بچوں کو مسجد میں لاتے ہیں اور جماعت خانہ میں بٹھاتے ہیں ، وہ بچے کبھی روتے ہیں ، کبھی شرارت کرتے ہیں اور گاہے پیشاب بھی کردیتے ہیں ، ان کو کہا جاتا ہے کہ بچوں کو اپنے ساتھ نہ لاؤ، اس سے مسجد کی بے حرمتی ہوتی ہے، مگر وہ نہیں مانتے، ان کی سمجھ میں آجائے ایسا جواب تحریر فرمائیں ۔ بینواتوجرو ا!
(الجواب)مسجد میں چھوٹے بچوں کو لانے کی اجازت نہیں ، مسجد کاادب و احترام باقی نہ رہے گا اور لانے والے کو بھی اطمینانِ قلب نہ رہے گا ،نماز میں کھڑے ہوں گے مگر خشوع وخضوع نہ ہوگا، بچوں کی طرف دل لگارہے گا ،حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: "جنبوا مساجد کم صبیانکم و مجانینکم ..."الخ اپنی مسجدوں کوبچوں اور پاگلوں سے بچاؤ۔"
(ابن ماجہ ص۵۵ باب مایکرہ فی المساجد)
اسی لیے فقہاء رحمہم اللہ تحریر فرماتے ہیں کہ مسجد میں بچوں کو داخل کرنا اگر اس سے مسجد کے نجس ہونے کا اندیشہ ہوتو حرام ہے، ورنہ مکروہ ہے ، الا شباہ والنظائر میں ہے:
” ومنها حرمة إدخال الصبیان و المجانین حیث غلب تنجیسھم و إلا فیکرہ.“
(الأشباہ ص ۵۵۷ القول في أحکام المسجد)
ہاں ! اگر بچہ سمجھ دار ہو، نماز پڑھتا ہو، مسجد کے ادب و احترام کا پاس و لحاظ رکھتا ہوتو کوئی حرج نہیں ہے، غالباً اسی بنا پر سات برس کی قید حدیث میں موجود ہے ۔ وہ نابالغ بچوں کی صفت میں کھڑا ہے ، اگر صرف ایک ہی بچہ ہوتو وہ بالغوں کی صف میں کھڑا ہو سکتا ہے ،مکروہ نہیں ۔"
(ج:9، ص:120، ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100316
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن