
میں نے مجبوری کی وجہ سے بچوں کا عقیقہ نہیں کیا ہے، ایک بچہ ابھی پیدا ہوا ہے، اور ایک بیٹی ڈیڑھ سال کی ہے اور ایک بیٹا ڈھائی سال کا ہے، میں ان کے عقیقے کرنا چاہتا ہوں تو میں کس طرح ادا کروں ؟ نیز یہ بتائیں کہ لڑکی کے لیے کتنے جانور اور لڑکے کے لیے کتنے جانور ذبح کرنے چاہییں؟
واضح رہے کہ عقیقہ کرنا مستحب ہے، فرض یا واجب نہیں ہے، البتہ استطاعت ہو تو عقیقہ کرنا چاہیے ؛ اس سے بچہ آفات اور بلاؤں سے محفوظ رہتا ہے، اور لوگوں کی دعائیں نصیب ہوتی ہیں،اور نسب کا اعلان ہوتا ہے ، اگر کوئی شخص عقیقہ نہ کرسکے تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا۔
نیز عقیقہ کا مستحب وقت یہ ہے کہ پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کرے، اگر ساتویں دن عقیقہ نہ کرسکے تو چودہویں دن، ورنہ اکیسویں دن کرے، اس کے بعد عقیقہ کرنا مباح ہے، اگر کرلے تو ادا ہوجاتا ہے، اگرچہ مستحب وقت کی فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔ تاہم جب بھی عقیقہ کرے بہتر یہ ہے کہ پیدائش کے دن کے حساب سے ساتویں دن کرے۔
لہذا صورت مسئولہ میں سائل اگر ابھی اپنے تینوں بچوں کا عقیقہ کرنا چاہتا ہے تو کرسکتا ہے، اس میں اگر ہر ایک کی پیدائش کے ساتویں دن کے حساب سے عقیقہ کرلے تو بہتر ہے، ورنہ ابھی جس بچے کی پیدائش ہوئی ہے اس کے عقیقہ کے ساتھ اپنے دوسرے دو بچوں کا بھی عقیقہ کرلے۔
نیز بچے کے عقیقہ میں دو بکرے یا بکریاں یا دو بھیڑ، اور بچی کے عقیقہ میں ایک بکری یا بھیڑ ذبح کرنا یا بڑے جانور ( گائے ، بیل، اونٹ) میں بچے کے لیے دو حصے اور بچی کے لیے ایک حصہ رکھنا مستحب ہے، تاہم اگر بچے کے عقیقہ میں دو بکرے کرنے کی استطاعت نہ ہو تو ایک بکرا بطور عقیقہ ذبح کرنا بھی کافی ہے، البته ایک چھوٹے جانور (بکرا ، دنبہ وغیرہ) میں اور بڑے جانور (گائے ، بیل، اونٹ) کے ایک حصہ میں ایک سے زائد عقیقہ نہیں ہوسکتا۔
فيض الباری شرح صحيح البخاری میں ہے :
"ثم إن الترمذي أجاز بها إلى يوم إحدى وعشرين. قلتُ: بل يجوز إلى أن يموت، لما رأيت في بعض الروايات أنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم عق عن نفسه بنفسه. والسر في العقيقة أنَّ الله أعطاكم نفسًا، فقربوا له أنتم أيضًا بنفس، وهو السر في الأضحية. ولذا اشترطت سلامة الأعضاء في الموضعين، غير أن الأضحية سنوية، وتلك عُمْرية."
(كتاب العقيقة، 5/ 648، ط: دار الكتب العلمية بيروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضةً أو ذهباً، ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعاً على ما في شرح الطحاوي، وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئاً أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا، واتخاذ دعوة أو لا، وبه قال مالك. وسنها الشافعي وأحمد سنةً مؤكدةً شاتان عن الغلام، وشاةً عن الجارية، غرر الأفكار ملخصاً، والله تعالى أعلم."
(کتاب الأضحیة، 6/ 336، ط: سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711100346
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن