بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو الحجة 1447ھ 09 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بچی کا رُخِ فاطمہ نام رکھنا


سوال

میں نے اپنی بیٹی کا نام ”رُخ فاطمہ“(Rukh-e-Fatima) رکھا ہے، لیکن اب سب ہی کہہ رہے ہیں کہ یہ نام بہت بڑا نام ہے، اس لیے آپ بتائیے کہ یہ رخ فاطمہ نام بہتر ہے یا صرف ”فاطمہ“ نام رکھنا زیادہ بہتر ہے؟

جواب

واضح رہے”رُخ“ اردو اورفارسی میں چہرہ کو کہاجاتا ہے، جبکہ”فاطمه“   فطم سے ہے جس کے معنی  دودھ  چھڑانے کے ہیں، لغوی اعتبار سے ”فاطمہ“ اس خاتون کو کہتے ہیں جو اپنے بچے کا دودھ چھڑادے، ”فاطمہ“ رسول اللہ ﷺ کی پیاری بیٹی (فاطمہ بنت محمد ﷺ) کا بابرکت نام ہونے کے ساتھ ساتھ بیس سے زیادہ صحابیات کا بھی نام مبارک ہے۔

مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق  ”رُخِ فاطمہ“ کا مطلب ہے فاطمہ جیسے چہرہ والی ، لہذا نام میں معنوی طور پر کوئی خرابی نہیں ہےاِس لیے بچی کا یہ نام رکھا جاسکتا ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ فقط ”فاطمہ“ یا ”فاطمۃ الزہراء“ نام رکھ لیا جائے، جو حضورﷺ کی لختِ جگر کے نام نامی سے عین مشابہت کی وجہ سے زیادہ باعث خیروبرکت ہے۔

تاج العروس میں ہے:

"(و) فطم (الصبي) يفطمه فطما: (فصله عن الرضاع، فهو مفطوم وفطيم ج:) فطم

(والإسم) الفطام، (ككتاب) ، وفي الصحاح: فطام الصبي: فصاله عن أمه. يقال: فطمت الأم ولدها، وهو نص اللحياني في نوادره.[وناقة فاطم: بلغ حوارها ستة أشهر] .

(وأفطم السخلة) كذا في النسخ، والصواب: أفطمت: إذا (حان أن تفطم) عن ابن الأعرابي، (فإذا فطمت فهي فاطم ومفطومة وفطيم) ، وذلك لشهرين من [يوم] ولادها، فلا يزال عليها اسم الفطام حتى تستجفر.

(وفاطمة عشرون صحابية) بل أربعة وعشرون، وهن:فاطمة بنت رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم سيدة نساء العالمين، وابنة أسد بن هاشم الهاشمية أم علي وإخوته رضي الله تعالى عنهم، وبنت الحارث بن خالد التيمية، وابنة أبي الأسود المخزومية، وابنة أبي حبيش الأسدية، وابنة حمزة بن عبد المطلب...الخ."

(ج:33، ص:209-210، ط:دارالهداية)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100020

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں