
بچے کی پرورش کیسے کرنی چاہیے ؟ یعنی پیدا ہونے کے بعد اس کی تربیت کیسے کی جائے ؟ شروع سے لے کر آخر تک راہ نمائی فرمائیں!
دینِ اسلام نے بچے کے پیدا ہوتے ہی بلکہ اس سے بھی پہلے جب وہ ماں کے پیٹ میں ہو، اس کی تربیت کا حکم دیا ہے، چنانچہ والدین کو اس بات کی تاکید کی ہے کہ جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہو تو والدین حرام کھانے سے گریز کریں کیونکہ حرام خوراک کا اثر ماں کے پیٹ میں بچے پر ہوتا ہے ، اسی طرح بلوغت تک بچے کی تربیت کرتے رہنے کی تاکید کی ہے ۔
تربیت میں جن باتوں کی رعایت رکھنا چاہیے ان میں سے چند باتیں مختصراً یہاں ذکر کی جارہی ہیں، تفصیل کے لیے اس موضوع پر لکھی گئی کتب کا مطالعہ مفید رہے گا، ان کا نام آخر میں درج کیا جارہا ہے۔
1- بچہ جب پیدا ہو جائے تو سب سے پہلے اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے ۔
2- پیدائش کے ساتویں دن اس کا عقیقہ کیا جائے اور اس کا اسلامی نام رکھا جائے، بہتر ہوگا کہ انبیاء کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموں میں سے کسی کے نام پر نام رکھا جائے ۔
3- سات سال کی عمر میں بچے کو نماز پڑھنے کی ترغیب دی جائے اور نہ پڑھنے پر اس کو ڈانٹا جائے اور دس سال کی عمر نہ پڑھنے پر اس کو مارنا چاہیے ۔
4- بچے کو آداب سکھائے جائے، بڑوں کا ادب ، علماء کا احترام ، کھانے پینے کے آداب وغیرہ ۔
5- بچے کو دین کی تعلیم دی جائے ، جس میں سر فہرست قرآن کریم ہے۔
بچوں کی اسلامی تربیت کے موضوع پر درج ذیل کتابوں کا مطالعہ مفید ہوگا:
1ـــ- ”اسلام اور تربیتِ اولاد“، مؤلف: شیخ عبد اللہ ناصح علوان رحمۃ اللہ علیہ، مترجم: حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ
2ـ- ”تربیتِ اولاد اور اسلام“، مؤلف: حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ
باقی تفصیل اس لنک میں ملاحظہ فرمائیں:
اولاد کی ظاہری وباطنی تربیت اہمیت ۔۔۔۔۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100993
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن