بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بچے کوگودلینے میں شرعاًکن امورکاخیال رکھناضروری ہے؟


سوال

میرےچچاکی اہلیہ جوکہ میری خالہ بھی ہیں،ان کی شادی کوتقریباًتیس سال ہوگئے،لیکن اولادنہیں ہے،اب ان کی خواہش ہےکہ وہ کسی بچےکوپال لے،ان کی دل جوئی بھی ہو اور ان کاسہارابھی ہو،اس سلسلہ میں چندسوالات کے جوابات درکارہیں۔

1:ایسےمعاملات میں مثلاًشناختی کارڈ،دستاویزات  یادیگرمعاملات ،جیسےاسکول وغیرہ میں بچی کی ولدیت کی جگہ کیاوہ میرانام ہٹاکراپنانام درج کرواسکتےہیں؟یااس میں بھی کوئی شریعت  کی پابندی ہے؟

2:وہ لوگ اس پرراضی ہیں کہ بچی کی شادی (نکاح)کہ وقت وہ اس کے حقیقی والد کانام لیں گے،توبھی گنجائش ہے؟

3:مجموعی طورپرشریعت کی رہنمائی اس معاملہ میں کیاہے کہ بچہ گودلیاجائے توکن کن حدود اورقیود کاحیال رکھناہوگا؟

وضاحت:سائل اپنی بچی اپنی خالہ کوگوددیناچارہاہے۔

جواب

واضح رہےکہ کسی بچے  کوگودلینا جائز ہے ،تاہم بچے کی نسبت اصل والدین کی جانب کرنالازم ہے، نیز حقیقی والدین جب چاہیں اپنی اولاد کوواپس لے سکتے ہیں،لہذاصورت مسئولہ  میں سائل کی خالہ سائل کی بچی کوگودلےسکتی ہے،اس شرط کےساتھ کہ بچی کوہمیشہ اس کے حقیقی والدین کی طرف نسبت کی جائے،خواہ وہ شناختی کارڈمیں ہو یاتعلیمی دستاویزات میں ہویاعام طورپربلانےاورپکارنےوغیرہ  میں ہو ،اورسائل کی بچی اگربالغ ہوجائےتواس کےلیےپردہ وغیرہ کے احکام بھی نہیں ہے،کیوں کہ سائل کا چچااس بچی کا محرم ہے،تاہم اگرسائل کےچچاکو آئندہ مستقبل میں اللہ تعالی بیٹےکی نعمت سے نوازے اس کےبالغ ہونےکےبعدسائل کی بچی کےلیےوہ نامحرم ہوگی اس سے سائلہ کی بچی کوشرعی پردہ کرناہوگا۔

قرآن مجید میں ہے:

{وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا اٰبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا } [سورۃ الأحزاب: 4، 5]

ترجمہ:  اور  تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا  (سچ مچ کا) بیٹا نہیں بنادیا،  یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے اور اللہ حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ بتلاتا ہے ، تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو، یہ اللہ کے نزدیک راستی کی بات ہے، اور اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ تمہارے دین کے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں، اور تم کو اس میں جو بھول چوک ہوجاوے تو اس سے تم پر کچھ گناہ نہ ہوگا، لیکن ہاں دل سے ارادہ کر کے کرو       (تو اس پر مؤاخذہ ہوگا)، اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔                     (از بیان القرآن)     

صحیح بخاری میں ہے :

"من إدعى إلى غير أبيه، وهو يعلم، فالجنة عليه حرام."

(کتاب المغازی، باب:غزوۃ الطائف، رقم حديث:4071 ،ج:2, ص:1572, ط:بشری)

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن إبن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من إنتسب إلى غير أبيه، أو تولى غير مواليه، فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين. "

(أبواب الحدود، باب من إدعا إلى غير أبي، رقم حديث:2609، ج:2, ص:709، ط: بشری)

المبسوط للسرخسي میں ہے:

" لأنه يجب على الولد أن ينسب إلى أبيه شرعا . . .وكذلك إذا أقر بإبن فإنما يقر على نفسه؛ لأن الأب يحمل نسب الولد على نفسه. "

(کتاب الفرائض، باب إقرار الرجل بالنسب، ج:30، ط: إدارۃ القرآن کراچی)

موسوعہ فقہیہ کویتیہ  میں ہے:

"‌‌ من إنتسب إلى غير أبيه:   إن من الكبائر التي حذر منها الشارع لما يترتب عليها من المفاسد وتغيير ما شرع الله تعالى أن ينتسب المرء إلى غير أبيه، أو يدعي إبنا ليس إبنه وهو يعلم أنه كاذب فيما إدعاه، فعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا ترغبوا عن آبائكم فمن رغب عن أبيه فهو كفر."

(حرف المیم، ج:34، ص:209، إدارۃ الشؤون الإسلامیة کویت)

فتاوی رحیمیہ میں ہے :

"          اسکول وغیرہ میں بچہ کے نام کے ساتھ اس کے حقیقی والد کانام لکھاجائے۔ـ"

(کتاب الوصیۃ ،ج:10،ص:247،ط:دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101392

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں