
میری کوئی اولاد نہیں ہے، میں نے اپنے بھتیجے کے بچے کو لے پالک بنایا ہے، اس بچے کو اپنی والدہ اور میری اہلیہ کی بہن نے دودھ پلایا ہے، اب اس بچے کے بے فارم بنانا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس بچے کو دستاویزات میں ہم اپنی ولدیت دے سکتے ہیں، یعنی حقیقی والدین کی جگہ ہم اپنا نام اندراج کراسکتے ہیں؟ جب کہ حقیقی والدین کے نام کے اندراج میں مشکلات کا سامنا ہے، کیوں کہ بچے کے حقیقی والد اب دور رہتے ہیں، نیز یہ بچہ شروع ہی سے ہمارے ساتھ رہا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں لے پالک بچے کو اس کے حقیقی والد کی طرف منسوب کرکے پکارنا اور کاغذات وغیرہ میں ولدیت کے خانے میں حقیقی والد کا نام لکھنا شرعاً ضروری ہے، حقیقی والد کے بجائے پرورش کرنے والے کا نام ولدیت کے خانے میں لکھنا جائز نہیں ہے، البتہ سائل بچے کے کاغذات میں اپنا نام بطورِ سرپرست کے لکھوا سکتے ہیں۔
قرآنِ کریم میں ہے:
"وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ قَوْلُكُم بِأَفْوَاهِكُمْ ۖ." [الأحزاب:4]
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101159
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن