بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا بچے کےختنہ کا کوئی خاص دن ہے؟


سوال

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بچوں کا  ختنہ کرانےمیں کوئی  خاص  دن ہوتا ہے، تو وہ کون سا دن ہے؟

جواب

 ختنہ اسلام کا شعار اور سنتِ مؤکدہ ہے،  ختنہ کرنے کا  کوئی خاص دن متعین  نہیں ہے، بچے کا ختنہ کسی بھی عمر میں کیا جا سکتا ہے،تاہم  مستحب یہ ہے کہ  ختنہ ساتویں دن سے بارہ سال کے اندر اندر  کرلیا جائے،    تاہم اگر بچہ کم عمری میں  اس کی طاقت رکھتا ہو تو بلاوجہ اس میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے ، بچپن ہی میں بچے کے ختنہ کا اہتمام ہونا چاہیے۔

تکملہ فتح الملہم میں ہے:

"وأما الوقت المستحب للختان ، فهو السابع من یوم الولادۃ إلی اثني عشرۃ سنة ، وقد ختن رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم الحسن و الحسین رضی اللہ عنهما الیوم السابع من ولادتهما ، رواہ الحاکم في المستدرک عن عائشة رضی اللہ عنها . وقال مکحول : إن إبراهیم علیہ السلام ختن ابنه اسحاق لسبعة أیام ، وختن ابنه اسماعیل لثلاث عشرۃ سنة." 

(کتاب الفضائل ، باب فضل إبراهیم علیه السلام جلد 5 ص: 9 ط: مکتبة دارالعلوم کراتشي)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"‌واختلفوا ‌في ‌الختان قيل إنه سنة وهو الصحيح كذا في الغرائب."

(کتاب الکراهیة ، الباب التاسع عشر فی الختان جلد 5 ص: 357 ط: دارالفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) الأصل أن (‌الختان سنة) كما جاء في الخبر (وهو من شعائر الإسلام) وخصائصه (فلو اجتمع أهل بلدة على تركه حاربهم) الإمام فلا يترك إلا لعذر وعذر شيخ لا يطيقه ظاهر."

(کتاب الخنثى، ج: 6 ص: 751 ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100137

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں