
اگر بچپن میں جان کر روزہ کھول لیا تو اس کا کفارہ کیا ہوگا؟ اگر دو ماہ کے روز ےنہ رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا بھی نہ کھلا ئے تو کیا کفارہ ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر بچہ اس وقت نابالغ تھا اور اس حالت میں اس نے روزہ کھول لیا تھا تو اس کی قضا اور کفارہ لازم نہیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي أحكام الأسروشني الصبي إذا أفسد صومه لا يقضي؛ لأنه يلحقه في ذلك مشقة بخلاف الصلاة فإنه يؤمر بالإعادة؛ لأنه لا يلحقه مشقة."
(کتاب الصوم، ج: 2، ص: 409، ط: سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144709101374
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن