
زید کی شادی کوتقریبا چار سال ہوگئے ہیں،لیکن ابھی تک کوئی اولاد نہیں ہوئی ہے،زید کی بیوی کا تایازاد بھائی جس کا حال ہی میں انتقال ہوگیا ہے،اور اس مرحوم کا ایک بیٹا ہے،جس کی عمر تین سال ہے،زید کی بیوی کی خواہش ہے کہ اس بچہ کو گودلےلے،برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں کہ شریعت میں اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
کسی بچے یا بچی کو گود لینا اور متبنی بنانا جائز ہے،لیکن اس میں چند باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
1۔جب کسی بچے یا بچی کو متبنی بنایا جائے تو اس کی نسبت ان کے حقیقی والدین کی طرف کرنا ضروری ہے،جن کی پشت سے وہ پیدا ہوئےہیں،اس لیے کہ کسی کو منہ بولابیٹابنانے سے شرعاوہ حقیقی بیٹانہیں بن جاتا اور نہ ہی اس پر حقیقی بیٹے کے احکام جاری ہوتے ہیں،البتہ گود لینے والے کو اس بچے کی پرورش ،تعلیم وتربیت،اورادب واخلاق سکھانے کا ثواب ملے گا،اور گود لینے والے کی حیثیت محض سرپرست کی ہے۔
2۔اسی طرح اگر گود لینے والا یا گودلینے والی اس بچے یا بچی کےلیے نامحرم ہوں توبلوغت کے بعد پردے کااہتمام کیا جائے،اس لیے کہ صرف گود لینے سے وہ بچہ یا بچی گود لینے والے کےلیے محرم نہیں بنتے،البتہ اگر مدت رضاعت میں گود لینے والی عورت اس بچے کو دودھ پلائے تووہ عورت اس بچے کی رضاعی ماں ،اور اس کا شوہر اس کا رضاعی والد بن جائے گا،پھر پردہ کرنا ضروری نہیں اور ان کے درمیان محرمیت قائم ہوجائے گی، اب چوں کہ بچے کی عمر تین سال ہو چکی ہے، اس لیے رضاعت کی صورت ممکن نہیں ہے۔
3۔اسی طرح وراثت کے معاملے میں اس گودلیے ہوئے بچے یا بچی کو حقیقی اولاد کی طرح نہیں سمجھا جائے ،اور ان کو حقیقی اولاد کی طرح گودلینے والے مردیا گودلینے والی عورت کے انتقال کے بعد وراثت میں حصہ نہیں ملے گا۔
لہذا صورت مسئولہ میں سائل کی بیوی اگر ان شرائط کا لحاظ رکھ کراپنے چچا زاد کے بیٹے کو اپنا متبنی بناتی ہے،تو اس کےلیے اس بچے کوگود لینا جائز ہے،اور اس بچے کی پرورش،تعلیم اور تربیت کا ثواب ملے گا،البتہ جب بچہ بالغ ہوجائے گاتوپردہ کرنالازم ہوگا۔
قرآن کریم میں ہے:
"وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَٰلِكُمْ قَوْلُكُم بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ ﴿الأحزاب: ٤﴾ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُم بِهِ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ﴿الأحزاب: ٥﴾."
ترجمہ :اور نہیں کیا تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے، یہ تمہاری بات ہے اپنے منہ کی اور اللہ کہتا ہے ٹھیک بات اور وہی سمجھاتا ہے راہ، پکارلو لے پالکوں کو ان کے باب کی طرف نسبت کرکے، یہی پورا انصاف ہے اللہ کے یہاں، پھر اگر نہ جانتے ہو ان کے باب کو تو تمہارے بھائی ہیں دین میں اور رفیق ہیں ،اور گناہ نہیں تم پر جس چیز میں چوک جاؤ،پر وہ جو دل سے ارادہ کرو اور ہے اللہ بخشنے والا مہربان (بیان القرآن )
کفایت المفتی میں ہے:
متبنی بنانا درست ہے یانہیں؟
"سوال :زید نے ایک لڑکے کو متبنی بنارکھا ہےاور اس کے ہاں حقیقی اولاد بھی موجود ہے،متبنی لڑکےسے بہت خاطر مدارات اور اچھی طرح سے اس کی پرورش کرتاہےاور حقیقی اولاد کے ساتھ اچھی طرح برتاؤ نہیں کرتااور نہ ان کی تربیت کا خیال ہے۔آیا اس صورت میں زید حقیقی اولاد کی حق تلفی کرتاہےیانہیں؟اور متبنی بنانا درست ہے یانہیں؟
جواب:متبنی بنانا درست ہے، لیکن متنبی بنانے سے متبنی کے لیے حقیقی اولاد کےاحکام ثابت نہیں ہوتے اور نہ متبنی کو وراثت کا حق حاصل ہوتاہے۔حقیقی اولاد کاحکم اور حقوق متبنی کی وجہ سے تبدیل نہیں ہو جاتےاگر یہ شخص متبنی کی خدمت گزاری اور اطاعت شعاری کی وجہ سےاس کی خاطر مدارات کرتا ہے اور حقیقی اولاد کی نافرمانی کی وجہ سےناراض ہے ،تواس میں وہ ایک حد تک معذو رہوسکتاہے،لیکن اگر حقیقی اولاد بھی اطاعت شعار اور خدمت گزار ہو اور یہ بغیر وجہ معقول متبنی کو اولاد پر ترجیح دےتو بےشک حق تلفی کا مؤاخذہ دار ہوگا۔"
(کتاب الطلاق ،باب ثبوت النسب، ج: 9، ص: 54، ط:ادارۃ الفاروق کراچی)
صحیح البخاری میں ہے:
"عن سعد رضي الله عنه قال:سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: (من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام)"
"عن أبي هريرة،عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (لا ترغبوا عن آبائكم، فمن رغب عن أبيه فهو كفر)."
"كتاب الفرائض،باب من ادعى الى غير ابيه، ج: 6، ص: 2485، ط: دار ابن كثير، دار اليمامة - دمشق)
احکام القرآن للقرطبی میں ہے:
"ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم وليس عليكم جناح فيما أخطأتم به ولكن ما تعمدت قلوبكم وكان الله غفورا رحيما (5)
فيه ست مسائل: الأولى- قوله تعالى: (ادعوهم لآبائهم) نزلت في زيد بن حارثة على ما تقدم بيانه. وفي قول ابن عمر: ما كنا ندعو زيد بن حارثة إلا زيد بن محمد دليل على أن التبني كان معمولا به في الجاهلية والإسلام يتوارث به ويتناصر إلى أن نسخ الله ذلك بقوله: (ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله) أي أعدل. فرفع الله حكم التبني ومنع من إطلاق لفظه وأرشد بقوله إلى أن الأولى والأعدل أن ينسب الرجل إلى أبيه نسبا فيقال: كان الرجل في الجاهلية إذا أعجبه من الرجل جلده وظرفه ضمه إلى نفسه وجعل له نصيب الذكر من أولاده من ميراثه وكان ينسب إليه فيقال فلان بن فلان. وقال النحاس: هذه الآية ناسخة لما كانوا عليه من التبني وهو من نسخ السنة بالقرآن فأمر أن يدعوا من دعوا إلى أبيه المعروف فإن لم يكن له أب معروف نسبوه إلى ولائه فإن لم يكن له ولاء معروف قال له يا أخي يعني في الدين قال الله تعالى: (إنما المؤمنون إخوة) "
(سورة الأحزاب، آية 5، ج: 14، ص: 119، ط: دار الكتب المصرية - القاهرة)
تفسیر روح المعانی میں ہے:
"ادعوهم لآبائهم أي انسبوهم إليهم وخصوهم بهم، أخرج الشيخان، والترمذي، والنسائي، وغيرهم عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما أن زيد بن حارثة مولى رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم ما كنا ندعوه إلا زيد بن محمد حتى نزل القرآن ادعوهم لآبائهم إلخ فقال النبي صلى الله تعالى عليه وسلم: أنت زيد بن حارثة بن شراحيل"
(سورة الأحزاب، آية: 5، ج: 11، ص: 145، ط: دار الكتب العلمیة)
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ میں ہے:
"(وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم (لا ترغبوا) : أي: لا تعرضوا (عن آبائكم) : أي: عن الانتماء إليهم (فمن رغب عن أبيه) : أي: وانتسب إلى غيره (فقد كفر) : أي قارب الكفر، أو يخشى عليه الكفر. في النهاية: الدعوة بالكسر في النسب، وهو أن ينتسب الإنسان إلى غير أبيه وعشيرته، وكانوا يفعلونه فنهوا عنه، والادعاء إلى غير الأب مع العلم به حرام، فمن اعتقد إباحته كفر لمخالفة الإجماع، ومن لم يعتقد إباحته فمعنى (كفر) : وجهان، أحدهما: أنه أشبه فعله فعل الكفار، والثاني: أنه كافر نعمة الإسلام"
(كتاب النكاح، باب اللعان، ج: 5، ص: 2170، ط: دار الفكر، بيروت - لبنان)
تفسیر مظہری میں ہے:
"فلا يثبت بالتبني شىء من احكام النبوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك."
(سورة الاحزاب،آية:5،ج:7،ص:284،ط:مكتبة الرشیدية - الباكستان)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100635
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن