
سیھو پگہارنا: یہ بلوچی زبان کا لفظ ہے” سیھو“ بلوچی میں سیسہ کو کہتے ہیں” پگہار نے “کا مطلب ہے سرپر گھمانا، یہ وہ رسم ہے جب بچہ بچپن کی عمر میں ہوتا ہے ،بالغ ہونے سے قبل یہ عمل کیا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جب کوئی بچہ اس عمر میں بزدل ہوتا ہے تو ان کے والدین گھر میں ایک حربہ استعمال کرتے ہیں، کہ اس سےبچے کو بہادر اور نڈر بنانے کےلیے ،اس کی صورت یہ ہوتی ہے :
سیسہ کو پانی میں ڈال کر کسی برتن میں آگ پر گرم کرکے پگھلایا جاتا ہے ،اس کے بعدجب سیسہ پانی میں پگھل جاتا ہے تو بچے کو بٹھا کر اس کے سر پر گھمایا جاتا ہے ،جب تک کہ وہ پگھلا ہوا سیسہ جم جائے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پہلے گویا اس بچے کا دل اس پگھلے ہوئے سیسے کی طرح تھا، اب جس طرح یہ سیسہ جم چکا ہے اس کا دل بھی جم گیا اور مضبوط ہوگیا ہے۔
یہ رسم جائز ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں بچے سے بزدلی اور خوف ختم کرنے کے لیے مسنون دعاؤں اور وظائف کا اہتمام کرنا بہتر ہے ، تاہم سوال نامے میں ذکر کردہ رسم "سیہو پگہارنا" پر بھی عمل کرنامباح ہے، بشرط کہ مذکورہ طریقے کو فی نفسہ موثر نہ سمجھا جائے۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"ونظيره صب الشمع فوق الصبي الخائف قال الشيخ اللبادي إنما يباح إذا لم ير الشفاء منه كذا في القنية".
(كتاب الكراهية، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات، ج:5، ص:353، ط: مكتبه رشيديه)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144611100661
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن