
ایک عورت نے اپنا بچہ دانی (رحم) اپنے بھائی کی بیوی کو عطیہ کر دیا۔ ہسپتال میں آپریشن کے ذریعے وہ رحم بھائی کی بیوی کے جسم میں منتقل کر دیا گیا۔ اس کے بعد وہ عورت اپنے شوہر سے حاملہ بھی ہو گئی۔
شرعاً اس صورت کا کیا حکم ہے؟کیا اس عورت کو اپنے شوہر سے طلاق لے لینی چاہیے یا نکاح بدستور برقرار رہ سکتا ہے؟
واضح رہے کہ انسان کا جسم اور اس کے تمام اعضاء دراصل اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں، اس لیے ان میں اپنی طرف سے ناجائز تصرف کرنا درست نہیں۔ لہٰذا مذکورہ صورت میں کسی عورت کا اپنی بچہ دانی (رحم) اپنی بھابھی کو دینا شرعاً ناجائز اور حرام تھا۔
البتہ جب ایک مرتبہ بچہ دانی منتقل کر دی گئی اور آپریشن کے ذریعے دوسری عورت کے جسم میں اس کی پیوندکاری کردی گئی تو اب یہ دوسری عورت کا عضو شمار ہوگا۔
لہٰذا اگر اس رحم کی پیوندکاری کے بعد اس عورت کو اپنے شوہر سے حمل ٹھہر جائے تو اس صورت میں بچے کا نسب اپنے والد سے ہی ثابت ہوگا۔
اسی طرح میاں بیوی کا نکاح بھی بدستور برقرار رہے گا اور اس بنیاد پر طلاق لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
فتح الباری میں ہے:
"ويؤخذ منه أن جناية الإنسان على نفسه كجنايته على غيره في الإثم لأن نفسه ليست ملكا له مطلقا بل هي لله تعالى فلا يتصرف فيها إلا بما أذن له فيه."
(كتاب الأيمان والنذور، باب من حلف على الشيء، 11/539، ط: دار المعرفة، بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101733
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن