
1-ایک والد نے اپنے بیٹے کو کہاکہ : اگر تو چچا کے گھر گیا تو تومجھ پر عاق ہے۔پھر وہ بیٹا عید کے موقع چچا کے ہاں چلا گیا ، تو کیا اس صورت میں وہ بچہ عاق ہو گا یہ نہیں ؟
2-ایک شخص جو اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا چاہتا ہے، اس کی بیوی ہے،چار بیٹیاں، سات بیٹےہیں، اس کے والدین نہیں ہے،مذکورہ افراد میں جائیداد کیسے تقسیم ہوگی ؟
1-واضح رہے کہ عاق کرنا ،یعنی اپنے اولاد میں سے کسی کو اپنی جائیداد سے محروم کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی شرعاً اس کی کوئی حیثیت ہے، لہذا صورت مسئولہ میں بیٹا عید کے موقع پر چچا کے گھر جانے سے عاق نہیں ہوگا،اور والد کی ميراث سے محروم بھی نہیں ہوگا، بلکہ وہ بدستور اس کے ورثاء میں شامل رہے گا اور والد کی موت کے بعد اس کے ترکہ میں اپنے شرعی حصہ کا حق دار ہوگا۔
2-ہر شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا خود مالک و مختار ہوتا ہے، وہ ہر جائز تصرف اس میں کرسکتا ہے، کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ اس کو اس کی اپنی ملک میں تصرف کرنے سے منع کرے، نیز والدین کی زندگی میں اولاد وغیرہ کا اس کی جائیداد میں حصہ نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی کو مطالبہ کا حق حاصل ہوتا، تاہم اگر صاحبِ جائیداد اپنی زندگی میں اپنی جائیداد خوشی و رضا سے اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو کرسکتا ہے اور اپنی زندگی میں جو جائیداد تقسیم کی جائے وہ ہبہ (گفٹ) کہلاتی ہے اور اولاد کے درمیان ہبہ (گفٹ) کرنے میں برابری ضروری ہوتی ہے۔
لہذا بصورتِ مسئولہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی ہی میں اپنی جائیداد اپنی اولاد اور بیوی کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے لیے اس قدر رکھ لے جس سے بقیہ زندگی بغیر محتاجگی کے گزار سکے اس کے بعد جتنا بیوی کو دینا چاہے دے دے، بہتر ہے آٹھویں حصے سے کم نہ دے، اس کے بعد باقی جائیداد تمام اولاد (بیٹے اور بیٹیوں) میں برابر تقسیم کرے، بلا وجہ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ نہ دے اور نہ ہی کسی کو محروم کرے،ورنہ گناہ ہوگا،اور ایسی تقسیم شرعا غیر منصفانہ ہو گی۔ البتہ اگر کسی بیٹے یا بیٹی کو فرمانبرداری، خدمت، دین داری یا محتاجگی کی وجہ سے زیادہ دینا چاہے تو اس کی گنجائش ہے،اور تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کا حصہ علیحدہ کرکے اس پر مکمل قبضہ اور تصرف کا اختیار بھی دے دے، صرف نام کردینا کافی نہیں ہوگا۔
تکملة رد المحتار لمحمد علاء الدین میں ہے:
" الإرث جبري لايسقط بالإسقاط"
(کتاب الدعوی، باب التحالف، ج:7، ص:116، ط:دار الفكر، بيروت)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"و عن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» و في رواية ...... قال : «فاتقوا الله و اعدلوا بين أولادكم»".
(باب العطایا ج:1، ص:261 ط: قدیمی)
ترجمہ: حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا: ”نہیں“، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ …… آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔
(مظاہر حق،باب العطایا ، ج:3، ص: 393 ، ط: دارالاشاعت)
فتاوی شامی میں ہے:
"ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم".
(کتاب الهبة،ج:5، ص:696، ط: سعيد)
وفیہ ایضا:
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل".
(کتاب الهبة، ج:5، ص:690، ط:سعيد)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144712100380
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن