
والد صاحب کا چھ سال قبل انتقال ہوگیا ہے ،ورثاء میں ایک بیوہ ،چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، والد صاحب کے ترکہ میں ایک مکان ہے،جس میں دو بیٹے اور ایک بیوہ رہائش پذیر ہیں اور دوبیٹےالگ مکان میں رہتے ہیں اور دو بیٹیاں شادی شدہ ہیں ،ایک بیٹا جو بیوہ کے ساتھ رہائش پذیر ہے اور ایک بیٹاجو الگ مکان میں رہتا ہے ،ان دونوں بیٹوں کا مطالبہ ہے کہ ہمیں والد صاحب کےمتروکہ مکان میں حصہ دے دیا جائے ،جب کہ بیوہ کا مطالبہ ہے کہ جب تک میں حیات ہوں،اس مکان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ان مذکورہ دو بیٹوں کا مطالبہ درست ہے ،اور ان کے مطالبہ پر متروکہ مکان کو تقسیم کیا جائے گا؟
واضح رہے کہ مورِث کےانتقال کے بعد ان کی متروکہ جائیداد میں تمام ورثاءاپنے اپنے شرعی حصوں کے تناسب سے حق دار ہوتے ہیں، حقوقِ متقدمہ کی ادائیگی کے بعد ہر ہر وارث اپنے حصے کا مطالبہ کر سکتا ہے، نیز ورثاء میں سے کوئی بھی وارث میراث کی تقسیم کا مطالبہ کرلے تو دیگر ورثاء پر اس وارث کو اس کا شرعی حصہ ادا کرنا ضروری ہے۔
لہذاصورتِ مسئولہ میں مرحوم کے دوبیٹے متروکہ مکان کی تقسیم کا مطالبہ کررہے ہیں، جب کہ بیوہ تقسیم سے منع کر رہی ہے،تو ایسی صورت میں مرحوم کے متروکہ مکان کو شرعی اعتبار سے تقسیم کر کے ہر وارث کو اس کا حق دینا ضروری ہے،مطالبہ کے باوجود بیوہ کا تقسیم میں تاخیر کرنا شرعاً جائز نہیں، البتہ تقسیم کے بعد بیٹوں کی ذمہ داری ہے کہ والدہ کی رہائش کا باعزت انتظام کریں، جس میں والدہ کسی قسم کی تنگی نہ ہو۔
باقی مرحوم والد کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوق ِ متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد ،اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو اسے کل مال سے ادا کرنے کے بعد ،اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے بقیہ مال کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 80حصوں میں تقسیم کرکے مرحوم کی بیوہ کو 10حصے اور مرحوم کے ہر بیٹے کو 14 حصے اور ہربیٹی کو 7 حصے ملیں گے۔
صورت ِ تقسیم یہ ہے :
میت مرحوم والد :80/8
| بیوہ | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 7 | |||||
| 10 | 14 | 14 | 14 | 14 | 7 | 7 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے 12.5فیصد مرحوم کی بیوہ کو ،17.5فیصد مرحوم کے ہرایک بیٹے کو اور 8.75فیصد مرحوم کی ہرایک بیٹی کو ملے گا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإذا طلب أحد الشريكين القسمة وأبى الآخر فأمر القاضي قاسمه ليقسم بينهما."
(كتاب القسمة، ج:5، ص:231، ط:رشیدیة)
درر الحكام في شرح مجلة الاحكام میں ہے :
"إذا طلب أحد الشريكين القسمة وامتنع الآخر عنها فيقسمه القاضي جبرا أي حكما إذا كان المال المشترك قابلا للقسمة؛ لأن القسمة هي لتكميل المنفعة والتقسيم في المال القابل للقسمة أمر لازم."
(کتاب القسمة، باب في بيان القسمة، المادة 1130، ج:3، ص:128، ط:دار الجيل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101819
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن