بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بےروزگارباپ کے بچوں کے نفقہ کا حکم


سوال

میں اپنے چاروں بیٹوں کے ساتھ رہتا ہوں، میرا ایک بیٹا غیر شادی شدہ ہے ، ایک بیٹے کی بیوی کو طلاق ہو چکی ہے۔ اس مطلقہ کی دو بیٹیاں ہیں جو اپنی والدہ کے ساتھ اپنے نانا کے گھر میں رہتی ہیں،اب میں اپنے غیر شادی شدہ بیٹے کی شادی کرنا چاہتا ہوں تو میں نے اپنی مطلقہ بہو کے والد کو کہا کہ اس کا سامان یہاں سے لے جاؤ، کیونکہ بیٹے کی شادی کرانی ہے اور رہائش میں تنگی ہوجائےگی۔ تو اس نے کہا کہ پہلے اپنے بیٹے کا اس گھر میں سے حصہ اس کی طلاق شدہ بیوی کو دو پھر میں سامان اٹھاؤں گا۔ 

1)سوال یہ ہے کہ کیا میرے اور میرے بیٹے پر میری بہو کو حصہ دینا ضروری ہے یا نہیں ؟  ہم نے نہ اس کو حق مہر کے طور پر گھر میں حصہ دیا نہ ہی اس کو کوئی حصہ ہبہ کیا تھا۔ حق مہر 25 ہزار روپے تھے جو کہ ہم نے دے دیا۔

2)یہ بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا بے روز گار ہے، اس کے بچوں  کے خرچہ کا ذمے دار کون ہے ؟دو بیٹیاں ہیں   ایک کی عمر ساڑھے چار سال اور دوسری کی عمر ساڑھے پانچ سال ہے۔

 

جواب

1)اگر صورتِ مسئولہ میں بیان کردہ تفصیل درست ہے، اور سائل کے بیٹے کی شادی کے وقت سائل کے گھر کا کوئی حصہ مہر کے طور پر مقرر نہیں کیا گیا تھا، تو سائل کے بیٹے کے سابقہ سسر کا یہ مطالبہ شرعاً درست نہیں ہے۔ اس لیے نہ سائل اور نہ ہی سائل کے بیٹے پر شرعاً لازم ہے کہ وہ اپنے گھر کا کوئی حصہ انہیں دیں۔

2)بچیوں  کے اخراجات ان کی شادی  ہونےتک والد (سائل کے بیٹے) کے ذمہ لازم   ہیں ، اگر وہ بے روزگار ہے تو اس پر شرعا لازم ہے کہ محنت مزدوری کرکےاپنے اور اپنی بیٹیوں کے نفقے کا بندوبست کرے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"‌نفقة ‌الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة".

(کتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الرابع في نفقة الاولاد، ج:1، ص:560، ط:رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101611

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں