بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بالغہ لڑکی کےجب والد فوت ہوچکاہوتوکیااس کے چچاؤں کو اس کے نکاح پر اعتراض کاحق ہے یا نہیں؟


سوال

میں ایک بیوہ عورت ہوں،میرے سات بچے ہیں،میرے شوہر کا دو سال قبل انتقال ہواہے،انتقال سے قبل اپنے بھائیوں کو وصیت کی تھی کہ میرے بچوں کا خیال رکھیں،اس کے انتقال کے بعد وہ ہمارے پاس آتے ہی نہیں،ماہانہ خرچہ بھی  اس مہنگائی میں براۓ نام دیتے ہیں،وہ بھی ان کی مرضی پر ہے کبھی دیے اور کبھی نہیں دیتے،اب مسئلہ یہ ہے کہ میرے بچیاں جوان ہیں،ایک بیٹی کی عمر 21 سال ہے،اب اس کا ایک رشتہ آیاہے،میرے دیور ہم سے ملتے نہیں اور نہ رشتہ میں کوئی دلچسپی لیتے ہیں اور نہ ہی فون اٹھاتے ہیں،اب میری بچی بھی جوان ہے،اور رشتہ بھی ہمیں پسند ہے،اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی بچیوں کا رشتہ اور شادی ان کے بغیر کرسکتے ہیں؟اگر کرلیتے ہیں تو ان کو روکنے اور اعتراض کا حق ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب بچوں کے چچا اپنے بھتیجوں سے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھتے،شادی بیاہ کےلیے بھی مشاورت  اور تعاون نہیں کرتے،اس صورت میں جب سائلہ کی بیٹی عاقلہ بالغہ ہے تو اس کی اجازت سے کیاہوانکاح شرعاًدرست ہوگا،البتہ اس بات کاخیال رکھاجاۓ کہ لڑکا لڑکی کےخاندان کےبرابرکاہوناچاہیے،اس صورت میں اگر شرعی طریقے سے نکاح کرلیا تو کسی کو اعتراض کاحق نہیں ہوگا۔

بچوں کے چچاؤں کوچاہیے کہ ان بچوں کے ساتھ شفقت کامعاملہ کریں،ان کی شادی بیاہ میں شریک ہوکر خود یہ فريضہ  انجام دینے کی کوشش کریں تو عنداللہ اجروثواب کے مستحق ہوں گے۔

حدیث پاک میں ہے:

”عن أنس  قال: قال رسول الله ﷺ من أحب أن یبسط له في رزقه وینسأ له في أثر فلیصل رحمه. متفق علیه.“

(مشكاة المصابيح، كتاب الآداب، باب البروالصلة، الفصل الأول، ج:3، ص:1377، ط:المكتب الإسلامي بيروت)

ترجمہ:․․․”حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا :جو شخص چاہتاہے کہ اس کے رزق میں وسعت وفراخی اور اس کی اجل میں تاخیر کی جائے (یعنی اس کی عمر دراز ہو) تو اس کو چاہیے کہ وہ رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور احسان کرے۔“

بدائع الصنائع  میں ہے:

" الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلا بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض."

(کتاب النکاح، فصل ولاية الندب والاستحباب في النکاح، ج:2، ص:247، ط: دارالكتم العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101717

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں