بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیع قبل القبض کا حکم


سوال

میں ایک کام کرنا چاہ رہا ہوں، جس میں ایک ویب سائٹ بناؤں گا، اور اس میں سامان، یعنی کہ الگ الگ پروڈکٹس، بیچوں گا، اور وہ پروڈکٹس میرے پاس نہیں ہوں گی اور نہ ہی میری ملکیت میں ہوں گی۔

یہ سامان میں اس طرح بیچوں گا کہ ایک دوسری، یعنی کسی اور کی ویب سائٹ ہے جو ہمیں یہ سروس یا یہ سہولت دیتی ہے کہ ہم ان کی ویب سائٹ پر لگا ہوا سامان اپنی ویب سائٹ پر لگا کر اس سامان کا اشتہار چلائیں، اور اپنی ویب سائٹ کے ذریعے اس سامان کو اپنی مرضی کی قیمت پر بیچیں۔ اور خریدنے والے کو یہ نہیں پتا ہوگا کہ یہ سامان میرے پاس نہیں ہے، اور نہ ہی یہ پتا ہوگا کہ میں یہ سامان کسی اور کی ویب سائٹ کے ذریعے اپنی مرضی کی قیمت پر، منافع رکھ کر، اس کو بیچ رہا ہوں۔

مثال کے طور پر: جس ویب سائٹ کے ذریعے میں سامان اپنی ویب سائٹ پر لگا کر بیچ رہا ہوں، اس ویب سائٹ نے ایک چیز (کوئی بھی چیز ہو سکتی ہے) اپنی ویب سائٹ پر 100 روپے کی رکھی ہوئی ہے، اور میں وہ چیز اپنی ویب سائٹ پر 100 روپے سے زیادہ (کتنے کی بھی) بیچوں، تو کیا یہ چیز یا کام جائز ہے؟ 100 روپے سے اوپر جو بھی پیسے ہیں وہ میرا منافع ہے، اور 100 روپے اس ویب سائٹ والے کو اس کی چیز کے مل جائیں گے۔

ایک اور بات یہ ہے کہ میں اس ویب سائٹ، جس کے ذریعے سے میں سامان بیچ رہا ہوں، اس کا سیل ایجنٹ نہیں ہوں۔

اسلام کے مطابق، جو چیز ہماری نہیں ہے ہم وہ چیز نہیں بیچ سکتے، تو کیا یہ جو کام میں نے بتایا، کیا یہ جائز ہے؟

 

جواب

صورت مسئولہ میں چوں کہ جو چیز (پروڈکٹس) آپ فروخت کررہے ہیں وہ آپ کی ملکیت میں موجود نہیں ہے،بلکہ آپ کسی اور ویب  سائٹ سے اشتہار اپنی ویب سائٹ پر لگا تے ہیں، اور خریداری کرنےوالے سے حتمی قیمت طے کرکے بیع کرتے ہیں تو یہ صورت شرعا جائز نہیں ہے۔

البتہ اس طرح کی خرید  و فروخت کی جائز صورتیں مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ بائع مشتری سے یہ کہہ دے کہ یہ سامان میری ملکیت میں نہیں ، اگر آپ کو چاہیے تو میں اسے خرید کرآپ کو اتنی قیمت میں فروخت کرسکتاہوں، یوں بائع اس سامان کوخرید کر اپنے قبضہ میں لے کر باقاعدہ سودا کرکے مشتری کو فروخت کرے تو یہ درست ہے۔

2۔ آن لائن کام کرنے والا فرد یا کمپنی ، مشتری(خریدار)سے آرڈر لے اورمطلوبہ چیز کسی دوسرے فرد یا کمپنی سے لے کر خریدار تک پہنچائے اور اس عمل کی اجرت مقرر کرکے لے تو یہ بھی جائز ہے۔ یعنی بجائے اشیاء کی خرید وفروخت کے بروکری کی اجرت مقرر کرکے یہ معاملہ کرے۔

3۔ اگر مبیع بائع کی ملکیت میں موجود ہو اور تصویر دکھلا کر سودا کیا جا رہا ہو تو ایسی صورت میں بھی آن لائن خریداری شرعاً درست ہوگی۔ البتہ جواز کی ہر صورت میں خریدار کو مطلوبہ چیز ملنے کے بعد خیارِ رؤیت حاصل ہوگا، یعنی جب "مبیع" خریدار کو مل جائے تو دیکھنے کے بعد اس کی مطلوبہ شرائط کے مطابق نہ ہونے کی صورت میں اسےواپس کرنے کااختیار حاصل ہوگا۔

     فتاوی شامی میں ہے:

"إذ من شرط المعقود عليه: أن يكون موجوداً مالاً متقوماً مملوكاً في نفسه، وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه، وأن يكون مقدور التسليم منح."

(کتاب البیوع، باب بیع الفاسد، ج:5، ص:58، ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

"(لا) يصح اتفاقا...(بيع منقول) قبل قبضه ولو من بائعه... والأصل أن كل عوض ملك بعقد ينفسخ بهلاكه قبل قبضه فالتصرف فيه غير جائز... وفي المواهب: وفسد بيع المنقول قبل قبضه، انتهى. ونفي الصحة يحتملهما. وفي الرد: (قوله: ونفي الصحة) أي الواقع في المتن يحتملهما أي يحتمل البطلان والفساد والظاهر الثاني؛ لأن علة الفساد الغرر كما مر مع وجود ركني البيع، وكثيراً ما يطلق الباطل على الفاسد أفاده ط."

(باب المرابحة و التولية، فصل في التصرف في المبيع و الثمن قبل القبض و الزيادة، ج: 5، ص: 148،147، ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن ذكرا البيع من غير شرط ثم ذكرا الشرط على وجه المواعدة جاز البيع ويلزم الوفاء بالوعد كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب البيوع، الباب العشرون، ج:3، ص:209، ط:دار الفكر)

فتح القدیر میں ہے:

"ومن اشتری شیا مما ینقل ویحول لم یجزلە بیعه حتی یقبضه لأنه عليه السلام نھی عن بیع مالم یقبض ولأن فیه غررانفساخ العقد علی اعتبارالھلاك ...ثم علل الحدیث (لأن فیه غررانفساخ العقد) علی اعتبارھلاك المبیع قبل القبض فیتبین حینئذ أنە باع ملك الغبر بغیر إذنە وذلك مفسد للعقدء وفی الصحاح أنە صلی الله عليه وسلم نھی عن بیع الغرر."

(فصل:اشتری شیئا مما ینقل ویحول، ج:6، ص:512-510، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101660

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں