بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ربیع الثانی 1442ھ- 30 نومبر 2020 ء

دارالافتاء

 

بی سی (کمیٹی ) کی رقم پر زکات کا حکم


سوال

کمیٹی کی رقم پر زکات کا کیا حکم ہے؟

جواب

(بی سی )کمیٹی میں جتنی رقم (قسطیں) آدمی جمع کرواچکاہے اگر وہ رقم تنہایادوسرے اموال کے ساتھ مل کر زکاۃ کے نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جاتی ہے تو اس رقم کی زکاۃ ادا کی جائے گی، مثلاً: ایک شخص کمیٹی میں بیس ہزار روپے بھر چکاہے اور وہ پہلے سے صاحبِ نصاب ہے تو زکاۃ اداکرتے وقت بیس ہزار کی رقم کو بھی شامل کرکے زکاۃ ادا کرے گا، اور اگر آدمی پہلے سے صاحب نصاب نہیں ہے اور کمیٹی میں جمع کردہ رقم زکاۃ کے نصاب کے برابر نہیں تو اس رقم پر زکاۃ لازم نہیں ہوگی۔

اور اگر کوئی شخص کمیٹی وصول کرچکاہو اور وہ صاحبِ نصاب ہو تو زکاۃ کی ادائیگی کے وقت جو رقم اس کے پاس موجود ہوگی اس مجموعی  رقم سے رواں سال  کی جتنی قسطیں ادا کرناباقی ہیں، انہیں منہاکرکے بقیہ رقم کی زکاۃ دے گا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109201194

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں