بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حمادعزیز نام رکھنا


سوال

1۔کیا "حماد عزیز" نام رکھنا درست ہے ، کیوں کہ سننِ ابی داؤد میں حدیث نمبر 4956 کے ذیل میں امام ابوداود فرماتے ہیں:"حدثنا أحمد بن صالح، نا عبد الرزاق ، عن معمر ، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب ، عن أبيه ، عن جده أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له: ما اسمك قال: حزن، قال: أنت سهل قال: لا، السهل يوطأ ويمتهن، قال سعيد: فظننت أنه سيصيبنا بعده حزونة "قال أبو داود : وغير النبي صلى الله عليه وسلم اسم العاص، وعزيز، وعتلة، وشيطان، والحكم، وغراب، وحباب، وشهاب فسماه هشاما، وسمى حربا سلما، وسمى المضطجع المنبعث، وأرضا تسمى عفرة سماها خضرة، وشعب الضلالة سماه شعب الهدى، وبنو الزنية سماهم بني الرشدة، وسمى بني مغوية بني رشدة، قال أبو داود : تركت أسانيدها للاختصار".اگر ہم اس صورت میں عزیز کا معنی "عزت والا" لیں  تو " فَلَا تُزَكُّوٓاْ أَنفُسَكُمۡۖ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَنِ ٱتَّقَىٰٓ ٣٢" کی وعید میں توآتا  نہیں ؟ 2۔میرا یہ نام اپنے والد محترم کے  نام کی مناسبت سے رکھا گیا ہے ان کا نام "عزیز الرحمان"ہے ان کے نام کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

جواب

 "حماد " نام حمد سے لیا گیا ہے، جس کا معنی ہے: بہت زیادہ  تعریف کرنے والا، لہذا "حماد" نام رکھ سکتے ہیں۔

لسان العرب میں ہے : 

"ورجل حمدة کثیر الحمد، ورجل حماد مثله."

(ج،3،ص،156 ،ط: دار صادر بیروت)

عزیز کا معنی طاقتور اور عزت والے کے ہیں ، عزیزاور عزیز الرحمن نا م رکھنا درست ہے۔

القاموس الوحید میں ہے:

"عزیز کے معنی: طاقتور، کامیاب،محبوب و پیارا،عزت والا۔"

( ج ،1،ص، 1077، ط: ادارہ اسلامیات)  

تفسیر معارف القرآن میں:

" اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام دو طرح کے ہیں: پہلی قسم:وہ نام ہیں جوقرآن و حدیث میں غیراللہ کے لیے بھی استعمال ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے بھی۔ غنی، حق، حمید، طاہر، جلیل، رحیم، رشید، علی، کریم، عزیز وغیرہ کا استعمال قرآن و حدیث میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ بندوں کے لیے بھی ہواہے؛ لہٰذا ایسے صفاتی نام بندوں کے لیے بھی رکھے جاسکتے ہیں، اور ان ناموں کے ساتھ عبد لگانا ضروری نہیں۔ دوسری قسم:وہ نام ہیں جوقرآن و حدیث میں صرف اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال ہوئے ہیں اور غیراللہ کے لیے ان کا استعمال ثابت نہیں ہے۔ "رحمن، سبحان، رزّاق، خالق، غفار  وغیرہ" قرآن وسنت میں اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کے لیے نہیں آتے؛ لہٰذا ان ناموں کے ساتھ کسی کا نام رکھنا ہو تو ان کے ساتھ "عبد" کا لفظ ملانا ضروری ہے، جیسے: عبدالرحمن، عبدالسبحان، عبدالرزاق، عبدالخالق، عبدالغفار وغیرہ۔ بعض لوگ لاعلمی یا لاپروائی کی بنا پر عبدالرحمن کو رحمٰن، عبدالرزاق کو رزّاق، عبدالخالق کو خالق، عبدالغفار کو غفار کہہ کر پکارتے ہیں، ایسا کرنا ناجائز اور  گناہِ کبیرہ ہے، جتنی مرتبہ یہ لفظ پکارا جاتا ہے اتنی ہی مرتبہ گناہِ کبیرہ کا ارتکاب ہوتا ہے اور سننے والا بھی گناہ سے خالی نہیں ہوتا۔‘‘

(ماخوذ از تفسیر معارف القرآن ،ج،4،ص،132،ط: معارف القرآن ) 

فتاوی شامی میں ہے :

"‌وجاز ‌التسمية ‌بعلي ورشيد من الأسماء المشتركة ويراد في حقنا غير ما يراد في حق الله تعالى لكن التسمية بغير ذلك في زماننا أولى لأن العوام يصغرونها عند النداء كذا في السراجية۔

قوله ‌وجاز ‌التسمية ‌بعلي إلخ) الذي في التتارخانية عن السراجية التسمية باسم يوجد في كتاب الله تعالى كالعلي والكبير والرشيد والبديع جائزة إلخ، ومثله في المنح عنها وظاهره الجواز ولو معرفا بأل"

(کتاب الحظر والاباحۃ،ج،6،ص،417،ط :سعید)

اور اگر عزیز کا معنی عزت والا لیا جائے تو اس صورت میںفَلَا تُزَكُّوٓاْ أَنفُسَكُمۡۖ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَنِ ٱتَّقَىٰٓ ٣٢کی وعید میں آئے گا،کیونکہ اس صورت میں خود اپنی تعریف لازم آئے گی جو اس آیت کی  وعید کے ضمن میں آئے گی ۔  

شرح سنن ابو داؤد  لابن ارسلان میں ہے: 

"قال القرطبی : ویجری ھذا المجری فی المنع ما قدکثر فی ھذا الزمان من نعت انفسھم واولادھم بالنعوت التی  تقتضی التزکیة،کزکی الدین ومحیی الدین ،وعزالدین ،وما اشبه ذلک مما یقصد به المدح والتزکیة " 

(کتاب الادب،ج،19،ص،57،ط: دار الفلاح)  

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144510100917

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں