
میں نے گھریلو معاشی تنگی کی وجہ سے بیوی کو نوکری کرنے کی اجازت دی تھی، تو میری بیوی کمپنی میں نوکری کرنے لگی،لیکن وہاں کمپنی میں ایک شخص کے ساتھ اس کے غلط تعلقات بن گئے ہیں جس کی بنا پر وہ شخص میرے گھر میں بغیر اجازت اور میری لاعلمی میں آتا رہا ہے جس کے گواہ میرے بچے، دیگر رشتہ دار اور محلے والے ہیں۔ مجھے اس بات کا انکشاف ابھی ہوا ہےکہ وہ دونوں مل کر شاپنگ بھی کرتے رہے ہیں۔لیکن یہ معلوم نہیں کہ ان کے تعلقات کس حد تک ہے، اور اب میرے سمجھانے کے باوجود میری بیوی مجھ سے بدتمیزی بھی بہت کرنے لگی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس سارے معاملے میں مجھے شریعت کیا ہدایت دیتی ہے؟ آیا میں ان کو طلاق دے دوں یا نہیں؟ اور اگر وہ سچی توبہ کرلیتی ہے تو پھر شریعت کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ کسی عورت کا غیر محرم کے ساتھ بلا ضرورت گفتگو کرنا، یا اسے اپنے گھر میں داخل ہونے کی اجازت دینا، یا اس کے ساتھ نرم و دل لبھانے والے انداز میں بات چیت کرنا، یا تنہائی اختیار کرنا، یا اس کے ساتھ خریداری وغیرہ کے لیے جانایہ تمام امور شرعاً ناجائز اور حرام ہیں، اور زنا کے اسباب و مقدمات میں شمار ہوتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "کوئی بھی مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت (تنہائی) اختیار نہ کرے۔"
نیز شریعت نے بیوی کو اپنے شوہر کی اطاعت اور فرمانبرداری کا حکم دیا، ارشادِ نبویﷺ ہے: "(بالفرض) اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی کو کہتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، اسی اطاعت شعاری کا اسلام میں عورت کو شوہر کی مکمل فرمانبرداری کا حکم دیا گیا ہے، اگر شوہر بیوی کو کسی بات سے منع کر دے تو بیوی پر اس کی بات کا ماننا لازم ہے، البتہ خلافِ شرع امور میں شوہر کی اطاعت ضروری نہیں ہے؛ بلکہ اگر شوہر بیوی کو کسی معصیت کا حکم کرے، تو بیوی کے لیے اس کی بات ماننا جائز نہیں ہے۔جو عورت اللہ تعالی کی اطاعت اور اپنے شوہر کی فرماں برداری کرے، اس کے بارے میں حدیث شریف میں یہ فضیلت وارد ہوئی ہے کہ وہ کل قیامت کے دن جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "جس عورت نے (اپنی پاکی کے دنوں میں پابندی کے ساتھ) پانچوں وقت کی نماز پڑھی، رمضان کے (ادا اور قضا) رکھے، اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی اور اپنے خاوند کی فرماں برداری کی تو (اس عورت کے لیے یہ بشارت ہےکہ) وہ جس دروازہ سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔
صورتِ مسئولہ میں سائل پر لازم ہے کہ سب سے پہلے اپنی بیوی کو نصیحت کرے اور حسنِ تدبیر کے ساتھ اسے راہِ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ اگر بیوی توبہ کر کے اپنی غلطی سے باز آجائے تو یہی بہتر ہے۔ بصورتِ دیگر، اگر نصیحت مؤثر ثابت نہ ہو توایک کمرہ میں رہتے ہوئے وقتی طور پر بستر الگ کر دے،تاکہ اسے شوہر كی ناراضگی كا احساس ہو اور اپنے اس فعل سے توبہ كرے۔ پھر بھی اصلاح نہ ہو تو مناسب حد تک تنبیہ و سرزنش کرے۔ اگر اس کے باوجود بیوی اطاعت پر آمادہ نہ ہو تو خاندان کے معزز، دیندار، مخلص اور معاملہ فہم بزرگ افراد کے سامنے معاملہ پیش کرے تاکہ وہ اس كی اصلاح کی کوشش کریں۔ اگر ان تمام تدابیر کے باوجود بہتری واقع نہ ہو تو آخر میں طلاق دےسکتا ہے،اور طلاق کا دینے کا بہتر طریقہ یہ ہےکہ بیوی کو اس کی پاکی کے ایام میں صرف ایک طلاق رجعی دے،دوران عدت اگر بیوی سچی توبہ کرلیتی ہےتو سائل عدت کے اندر رجوع کرسکتا ہے،ورنہ بعد از عدت نکاح ختم ہوجائے گا، الغرض ایک ساتھ تین طلاقیں ہرگز نہ دے،ورنہ سائل گناہ گار ہوگا۔بدکار بیوی کو طلاق دینا شرعاًواجب نہیں ہے،البتہ مستحب ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يَا أَ يُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئاً وَلا يَسْرِقْنَ وَلا يَزْنِينَ وَلا يَقْتُلْنَ أَوْلادَهُنَّ وَلا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيھنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (سورةالممتحنة12)
ترجمہ:
اے پیغمبر جب مسلمان عورتیں آپ کے پاس (اس غرض سے ) آویں کہ آپ سے ان باتوں پر بیعت کریں کہ اللہ کے ساتھ کسی شے کو شریک نہ کریں گی، اور نہ چوری کرینگی ،اور نہ بدکاری کریں گی، اور نہ اپنے بچوں کو قتل کریں گی، اور نہ بہتان کی (اولاد) لاوینگی جس کو اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان (نطفہ شوہر سے جنی ہوئی دعویٰ کرکے ) بنالیویں ،اور مشروع باتوں میں وہ آپ کے خلاف نہ کرینگی ، تو آپ ان کو بیعت کرلیا کیجئے ،اور ان کے لئے اللہ سے مغفرت طلب کیا کیجئے ،بےشک اللہ غفوررحیم ہے ۔ (بیان القرآن)
تفسیر حقانی میں ہے:
زنا نہ کریں گی۔ زنامردوں کے لیے بھی برا کام ہے مگر معاذاللہ عورت کے لیے تو اور بھی شرمناک دھبہ ہے جو اس کی اولاد اور خاندان سے بھی دور نہیں ہوتا اور گو توبہ کر کے یہ عورت محاسبۂ آخرت سے پاک ہوجائے مگر دنیا میں تو عمر بھر کلنک کا ٹیکا ہے۔ لیکن شرفاء عورتیں ایسا کام نہیں کرتیں اور بہت کم ان سے یہ حرکت وقوع میں آتی ہے اس لیے چوری کے بعد اس کو ذکر کیا۔ خاوند کے مال میں سے کچھ چرا لینا شرفاء عورتیں ایسا برا عیب نہیں سمجھتی تھیں۔ چوری عام لفظ ہے پیسہ سے لے کر بےانتہا تک خواہ نقد کی ہو خواہ گھر کے اسباب کی ہو۔ میاں کی بےاجازت اس کی کوئی چیز چھپانا یا اپنے ماں باپ یا رشتہ داروں یا اور کسی کو دے دینا سخت معصیت ہے اور خدا تعالیٰ کی بازپرس کا باعث اور دنیا میں اس کی یہ تاثیر ہوتی ہے کہ اس عورت سے خاوند کو نفرت ہوجاتی ہے اور پھر خاوند کے گھر کا پورا اختیار اس کو نصیب نہیں ہوتا۔ امانت و دیانت عجب چیز ہے۔زنا جس طرح ممنوع ہے اسی طرح اس کے دواعی بھی ممنوع ہیں یعنی وہ باتیں جو زنا کا باعث اور سبب ہیں۔ غیرمحرم کا گھر میں آنے دینا یا اس سے بےضرورت باتیں اور اخلاق کا اظہار کرنا یا اس سے تخلیہ کرنا اور اسی طرح خاوند کے گھر سے باہر جانا اور غیروں کے ساتھ سیروتفریح میں باغوں ‘ سیرگاہوں میں جانا یا فحش اور شہوت انگیز قصہ کہانی کی کتابیں دیکھنا یا سننا جیسا کہ فسانۂ عجائب ‘ بدرمنیر وغیرہ اخلاق کو برباد کرنے والی کتابیں ہیں یا نئے ناول نکلے ہیں۔ اسی طرح ناچ و رنگ کی محفلوں میں شریک ہونا ان کی شہوت انگیز نقل و حکایات سننا یا آپ گا کر لوگوں کو سنانا یا اپنے زیور یا کپڑے کی جھلکی دکھانا ‘ شراب و مسکرات کا استعمال کرنا یہ ساری باتیں زناکاری کے دروازے ہیںجن میں یہ باتیں ہیں وہاں زناکاری کی بھی کچھ انتہا نہیں۔ جس قدر ترفہ ہوتا ہے یہ باتیں پیدا ہوتی ہیں وہیں زناکاری بھی زیادہ ہوتی جاتی ہے۔ برخلاف قراء و قبائل کے لوگوں کے کہ ان میں یہ کم ہے اور اس لیے عصبیت اور جواں مردی بھی ان لوگوں میں زیادہ ہوتی ہے۔ زناکار قوم میں غیرت نہیں رہتی۔ انجام کار وہ قوم دنیا میں تنزل اور پستی کا منہ دیکھتی ہے۔ اس بات پر ایک روایت یاد آئی جس کو مفسرین نے اس مقام پر نقل کیا ہے۔ وہ یہ کہ فتح مکہ کے دن جب عموماً وہاں کے لوگ مسلمان ہوگئے اور مردوں کی بیعت سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فارغ ہوئے تو مسلمان عورتیں بھی بیعت کے لیے آمادہ ہوئیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفا پہاڑی پر چڑھے اور عمر (رض) نیچے تھے۔ عورتیں نے بیعت کرنی شروع کی انہیں امور پر ہندبنت عتبہ زوجۂ ابی سفیان بھی برقع اوڑھے، بےپہچانے پیش ہوئیں (یہ ہندآں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پہلے بڑی دشمن تھی۔ حضرت حمزہ (رض) کا کلیجہ دانتوں سے اسی نے چبایا تھا اس کا ایک بیٹا حنظلہ تھا بدر کی لڑائی میں مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا گیا تھا) عمر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے بیعت لے رہے تھے جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اللہ سے شرک نہ کرنا، ہند نے سراٹھایا اور کہا کہ ہم نے اب تک بت پرستی کی تھی آپ ہم سے وہ عہد لیتے ہیں جو مردوں سے نہیں لیا ان سے تو صرف اسلام و جہاد پر عہد لیا تھا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا۔ چوری نہ کرنا۔ اس پر ہند نے کہا ابوسفیان کنجوس آدمی ہے اس کے مال سے میں نے کچھ لے لیا اب نہیں معلوم کہ حلال ہے یا حرام ہے۔ ابوسفیان نے کہا کہ میرے مال سے جو کچھ تو نے پہلے لے لیا یا آیندہ لے سب تجھ کو معاف اور حلال ہے۔ اس پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے اور ہند کو پہچان لیا اور فرمایا کیا تو ہند عتبہ کی بیٹی ہے؟ اس نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ ! جو کچھ مجھ سے پہلے قصور سرزد ہوا معاف کیجئے۔ اللہ آپ کو معاف کرے اس کے بعد آپ نے فرمایا زنا نہ کرنا۔ ہند نے کہا کیا بیویاں بھی زنا کرتی ہیں؟ یہ تو چھوکریوں لونڈیوں کا فعل ہے۔ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ ہند نے یہ کہا کہ ان بیویوں میں سے کسی نے کبھی یہ کام نہیں کیا۔ (اللہ رے شرافت و عصبیت کفروبت پرستی میں بھی یہ کام نہایت برا اور حقیر سمجھا جاتا تھا۔ تف ہے ان پر کہ بہن بیٹیوں سے یہ کام کراتے اور ان کی کمائی سے عمدہ کپڑے پہن کر اینٹھتے پھرتے ہیں)۔
(سورۃ سورۃ الممتحنہ، ج:7، ص:102، ط:الفیصل)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ وَاللاَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلاً إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيّاً كَبِيراً " ّ (النساء34)
ترجمہ:
"مرد حاکم ہیں عورتوں پر اس سبب سے کہ الله تعالیٰ نے بعضوں کو بعضوں پر فضیلت دی ہے اور اس سبب سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں سوجو عورتیں نیک ہیں اطاعت کرتی ہیں مرد کی عدم موجودگی میں بحفاظت الہی ٰنگہداشت کرتی ہیں اور جو عورتیں ایسی ہوں کہ تم کو ان کی بد دماغی کا احتمال ہو تو ان کو زبانی نصیحت کرو اور ان کو ان کے لیٹنے کی جگہوں میں تنہا چھوڑ دو اور ان کو مارو پھر وہ تمھاری اطاعت کرنا شروع کردیں تو ان پر بہانا مت ڈھونڈو بلاشبہ الله تعالیٰ بڑے رفعت اور عظمت والے ہیں ۔ "
معارف القرآن میں ہے:
" اب آئندہ آیت میں ان عورتوں کا بیان حال کرتے ہیں جو نیک بخت نہیں چناچہ فرماتے ہیں اور جن عورتوں کی سرکشی اور بدخوئی کا تم کو ڈر ہو جس کی علامت یہ ہے کہ عورت شوہر کی بات کا سختی سے جواب دے اور جب وہ اس کو اپنے پاس بلائے تو اس کے بلانے کی کچھ پروا نہ کرے یہ علامت ہے اس بات کی کہ وہ عورت شوہر کے سر چڑھنے لگی اور نشور کے اصلی معنی اونچے ہونے کے ہیں پس جن عورتوں کے متعلق یہ محسوس ہو کہ وہ سر چڑھنے لگی ہیں تو ان کی تادیب اور تنبیہ کا پہلا درجہ یہ ہے کہ ان کو نصیحت اور فہمائش کرو اور نشوز کی برائی ان پر ظاہر کرو اور یہ بتلاؤ کہ تم پر میرا حق ہے اور میر اطاعت تم پر فرض ہے لہذا اپنے نشوز سے باز آجاؤ اور اگر تمہارے سمجھانے اور نصیحت کرنے سے بھی بازنہ آئیں تو پھر تادیب وتنبیہ کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ ان کو بستروں اور خواب گاہوں میں تنہار چھوڑ دو یعنی ان کے پاس سونا چھوڑ دو شاید وہ تمہاری اس بےالتفاتی سے متاثر ہو کر اپنے نشوز سے باز آجائیں اور اگر وہ تمہارے بستروں سے الگ ہونے سے بھی متاثر نہ ہوں تو اخیر علاج یہ ہے کہ تم ان کو مارو اور مار کر درست کرو۔حدیث میں ہے کہ عورت کے منہ پر نہ مارنا ایسامارے کہ چوٹ زیادہ نہ لگے اور ہڈی بھی نہ ٹوٹے بعض تفسیروں میں ہے کہ مسواک وغیرہ سے مارے مگر چہرہ پر نہ مارے اور ایسا بھی نہ مارے کہ بدن پر نشان پڑجائے امام شافعی فرماتے ہیں کہ مارنا مباح اور جائز ہے مگر نہ مارنا افضل ہے پس اگر عورتیں تمہاری نصیحت یا علیحدگی یا ضرب وتادیب کے بعد تمہاری مطیع اور فرمانبردار ہوجائیں اور اپنی بدخوئی اور سرکشی سے باز آجائیں تو پھر تم ان کے ستانے کے لیے الزام کی راہ مت تلاش کرنا کہ ان پر ناحق الزام رکھ کر درپے آزاد ہو اور عورتوں کو عاجز سمجھ کر کسی قسم کی زیادتی ان پر نہ کرو بیشک اللہ تعالیٰ نے بہت بلند مرتبہ اور سب سے بڑا ہے کہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ ظالم مردوں سے مظلوم عورتوں کا بدلہ لیں اور تمہیں اپنی عورتوں پر وہ قدرت نہیں کہ جو اس علی کبیر کو تمام عالم پر حاصل ہے پس جب وہ علی کبیر باوجوداپنے رفعت اور کبریائی اور علو شان کے تم سے نرمی کا معاملہ کرتا ہے تو تم بھی اپنی عورتوں سے نرمی کا معاملہ کرو اور خوب جان لو کہ جس قدر تم اپنے ماتحتوں پر قدرت رکھتے ہو اس سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ تم پر قدرت رکھتا ہے اور اے مسلمانوں اگر تم کو یہ معلوم ہوجائے کہ میاں اور بیوی کے درمیان مخالفت ہے اور ایسی سخت کش مکش ہے کہ جس کو وہ باہم نہیں سلجھا سکتے اور نہ یہ معلوم ہوسکا کہ قصور کس کا ہے اور دن بدن بدمزگی بڑھ رہی ہے تو اس مخالفت کے تصفیہ کا طریقہ یہ ہے کہ ایک پنچ یعنی ایک منصف جس میں تصفیہ کی صلاحیت ہو اور نیک ہو مرد کے خاندان سے مقرر کرو اور ایک پنچ اور منصف عورت کے کنبہ اور خاندان سے پنچ کے مرد اور عورت کے اقارب میں سے ہونے کی قید اس لیے لگائی کہ اقارب کو بہ نسبت اجانب کے خانگی امور کا علم زیادہ ہوتا ہے نیز اقارب بہ نسبت اجانب کے صلح کرانے میں زیادہ کوشش کریں گے اور یہ شرط بطور استحباب کے ہے اگر دونوں پنچ مرد اور عورت کے کنبہ سے نہ ہوں اور اجنبی ہوں تو تب بھی جائز ہے اور دو پنچ مقرر کرنے میں مصلحت یہ ہے مرد کا پنچ مرد سے اور عورت کا پنچ عورت سے تخلیہ میں ان کی دلی مرضی کو معلوم کرلے گا کہ نکاح پر قائم رہنا چاہتے ہیں یا نکاح سے علیحدہ ہوناچا ہتے ہیں اگر یہ دونوں پنچ حقیقۃ اصلاح کا ارادہ کریں گے اور واپنے اپنے کنبہ کی پاسداری اور طرف داری نہ کریں گے تحقیق حال کے بعد جس جتنا قصور دیکھیں گے اس کو سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کریں گے تو امید ہے کہ اللہ ان دونوں یعنی میاں بیوی کے درمیان موافقت کرادے گا بیشک اللہ تعالیٰ بڑا جاننے والا اور خبردار ہے اللہ کو خوب معلوم ہے کہ میاں بیوی کے پنچ کس راہ پر جارہے ہیں اور ان کی کیا نیت ہے۔"
(ج:2، ص: 205، ط:المعارف )
مشکاۃ المصابیح میں ہے
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المرأة إذا صلت خمسها وصامت شهرها وأحصنت فرجها وأطاعت بعلها فلتدخل من أي أبواب الجنة شاءت» . رواه أبو نعيم في الحلية."
(مشکاۃ المصابیح، ج:1، ص:281، ط: قدیمی)بدائع الصنائع میں ہے:
البحر الرائق میں ہے:
"لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفر"
(كتاب النكاح، فصل في المحرمات في النكاح، ج:3، ص:98، ط:دار الكتاب الإسلامي)
وفيه أيضاّ:
" أن :رجلا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله: إن امرأتي لا تدفع يد لامس، فقال عليه السلام طلقها، فقال: إني أحبها وهي جميلة، فقال عليه السلام استمتع بها» وفي المجتبى من آخر الحظر والإباحة: لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا. اهـ."
(ج:3، ص:114، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة) ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا اهـ مجتبى والفجور يعم الزنا وغيره وقد قال صلى الله عليه وسلم لمن زوجته لا ترد يد لامس وقد قال إني أحبها: استمتع بها اهـ "
(ج:6، ص:427،ط:سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144710101403
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن