بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اذان فجر کے دوران کھایا پیا تو روزہ درست ہو گا؟


سوال

صبح کے وقت اذان جاری تھی اور میں نے پانی پی لیا تو اس طرح میرا روزہ ہو سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ روزے کا وقت صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک ہوتا ہے، جب کہ اذانِ فجر صبحِ صادق ہونے پر  ہی دی جاتی ہے؛ اس لیے صبحِ صادق کے بعد کچھ بھی کھانا یا پینا جائز نہیں ، اگر کوئی آدمی صبح صادق کے بعد بھی کھاتا پیتا رہے گا، تو اس کاروزہ شروع نہیں ہوگا،لہذا سائل کا روزہ نہیں ہوا ۔ اس کی قضاء کرنا ضروری ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(أو تسحر أو أفطر يظن اليوم) أي الوقت الذي أكل فيه (ليلا و) الحال أن (الفجر طالع والشمس لم تغرب) . . . (قضى) في الصور كلها (فقط).

(قوله: أو تسحر إلخ) أي يجب عليه القضاء دون الكفارة؛ لأن الجناية قاصرة وهي جناية عدم التثبت لا جناية الإفطار؛ لأنه لم يفسده."

(كتاب الصوم، ‌‌باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج:2، ص:405، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101324

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں