بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اعضاءِ انسانی کے ناکارہ ہونے کے بعد دوسرے شخص میں لگانے کا حکم


سوال

میرا فائنل ایئر کا ایک پروجیکٹ ہے، جس میں ہمیں ہڈیوں کو جمع کرنے کا ایک سسٹم بنانا ہے، جس کو ہم Bone Bank کہہ سکتے ہیں، جیسے ہسپتال میں Blood Bank ہوتا ہے، جہاں پر لوگ خون عطیہ کرتے ہیں، اور پھر وہ دوسرے لوگوں کو لگایا جاتا ہے، بالکل اسی طرح ایک سسٹم ہوگا جس میں لوگوں کی ہڈیاں مختلف بیماری جیسے شوگر، یا ایکسیڈنٹ وغیرہ کی وجہ سے کاٹنی پڑتی ہیں تو ان ہڈیوں کو لوگ دفنا دیتے ہیں، تو دفنانے کے بجائے مریض کی اجازت لے کر ان ہڈیوں کو مختلف کیمیکل لگا کر فریزر میں رکھ دیں اور پھر ان ہڈیوں سے دوسرے مریضوں کے لیے کوئی پراڈکٹ بنا لیں جو ان کے علاج میں ان کے لیے مستفید ہو، تو پوچھنا یہ تھا کہ اسلام میں اس کی اجازت ہے کہ جسم کا وہ حصہ جو بیماری کی وجہ سے نکل گیا اس کو دفنانے کے بجائے اس سے کوئی پروڈکٹ بنا لیں جو دوسرے مریضوں کے علاج کے لیے کام آسکیں؟

جواب

واضح رہے کہ  کسی چیز کو ہبہ کرنے یا عطیہ کے طور پر کسی کو دینے کے لیے  شرط یہ ہے کہ وہ شے  مال ہو، اور دینے  والے کی ملک ہو، اور یہی شرط وصیت کے لیے بھی ہے،  تو انسان کو اپنے اعضاء میں حقِ منفعت تو حاصل ہے، مگر حقِ ملکیت حاصل نہیں ہے، جن اموال و منافع پر انسان کو حقِ مالکانہ حاصل نہ ہو  انسان  ان اموال یا منا فع کی مالیت کسی دوسرے انسان کو منتقل نہیں کرسکتا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں  آپ  کا مذکورہ  پروجیکٹ  کہ جس میں انسانی اعضاء سے فائدہ اٹھانا ہوتا ہے، شرعا جائز نہیں ہے، کیوں کہ اس میں دیگر قباحتوں کے ساتھ ساتھ انسانی تکریم کی خلاف ورزی لازم آتی ہے، یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے علاج ومعالجہ  اور شدید مجبوری کے موقع پر بھی انسانی اعضاء کے استعمال کو ممنوع قرار دیا ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"‌الانتفاع ‌بأجزاء ‌الآدمي ‌لم ‌يجز قيل للنجاسة وقيل للكرامة هو الصحيح كذا في جواهر الأخلاطي."

(كتاب الكراهية، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات، 5/ 354، ط: دار الفكر)

شرح السیر الکبیر میں ہے:

‌"والآدمي ‌محترم ‌بعد ‌موته ‌على ‌ما ‌كان ‌عليه ‌في ‌حياته. فكما يحرم التداوي بشيء من الآدمي الحي إكراما له فكذلك لا يجوز التداوي بعظم الميت. قال صلى الله عليه وسلم: «كسر عظم الميت ككسر عظم الحي."

(باب دواء الجراحة، ص: 128، ط: الشركة الشرقية للإعلانات)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100233

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں