
ایام بیض (قمری مہینے کی 13، 14 اور 15 تاریخ) کے روزوں کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ان دنوں چاند کی روشنی (سفیدی) سب سے زیادہ ہوتی ہے، اس لیے انہیں "ایام بیض" (روشن دن) کہا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے بدن کی سیاہی ان تین روزوں سے زائل ہوئی اور بدن چمکدار (بیض) ہو گیا تھا۔ مندرجہ بالا کی تصدیق درکار ہے
صورتِ مسئولہ میں اہل لغت اور محدثین کرام نے ایام بیض کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ ان تین دنوں کی راتیں چاند کے مکمل طلوع ہونے کی وجہ سے روشن ہوتی ہے، اور سوال میں ذکر کردہ دوسری وجہ تسمیہ تلاش کے باوجود نہ مل سکی۔
مصابیح الجامع میں ہے:
"قلت: الظاهر أن مثل هذا ليس بوهم؛ فإن اليوم وإن كان عبارة عن الليل والنهار جميعا، لكنه بالنسبة إلى الصوم إنما هو النهار خاصة، وعليه: فكل يوم يصام هو (4) أبيض؛ لعموم (5) الضوء له من طلوع الفجر إلى غروب الشمس، فينبغي أن يقال: أيام البيض؛ أي: أيام الليالي البيض، وإليه تشير ترجمة البخاري؛ حيث فسر البيض "بثلاث (6) عشرة، وأربع عشرة، وخمس عشرة"، وهي البيض، حكاه مغلطاي."
(باب: صيام أيام البيض: ثلاث عشرة، وأربع عشرة، وخمس عشرة، ج: 4، ص: 395، ط: دار النوادر سوريا)
كتاب الالفاظ لابنِ السكيت ميں هے:
"وليالي البيض: السواء والبدر والنصف. وإنما قيل "البيض" لبياضهن من أولهن إلى آخرهن. ولا يقال: أيام البيض."
(باب أسماء القمر وصفته، ص: 289، ط: مكتبة لبنان ناشرون)
تقویم اللسان میں ہے:
"وتقول في اليوم الثالث عشر، والرابع عشر، والخامس عشر: "هذه أيام البيض; أي أيام الليالي البيض وسميت (هذه) الليالي بيضا، لطلوع القمر من أولها إلى آخرها". والعامة تقول: "الأيام البيض"، حتى إن بعض الفقهاء جرى في كتبه المصنفة على عادات العوام في ذلك، وهو خطأ، لأن الأيام كلها بيض."
(باب الألف، ص: 64، ط: دار المعارف)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101279
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن