بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازی کے سامنے گزرنے والے کو روکنےسےمتعلق حدیث کی تخریج


سوال

کیا درج ذیل حدیث ، احادیث کی کتابوں میں موجود ہے؟ رہنمائی فرمائیں: 

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر دوران نماز تمہارے آگے سے کوئی شخص گزرے تو اسے گزرنے سے روکو ، اگر وہ نہ رکے تو پھر روکو ، اگر پھر بھی نہ رکے تو اس سے لڑو؛  کیونکہ وہ شیطان ہے۔

جواب

یہ حدیث بخاری شریف میں موجود ہے، ملاحظہ فرمائیے: 

"عن أبي سعيد قال:  قال النبي صلى الله عليه و سلم:  إذا مر بين يدي أحدكم شيء، وهو يصلي فليمنعه، فإن أبى فليمنعه، فإن أبى فليقاتله، فإنما هو شيطان".

(أخرجه الامام البخاري في صحيحه في باب صفة إبليس وجنوده  (3/ 1193) برقم (3100)، ط. دار ابن كثير ، اليمامة - بيروت، الطبعة الثالثة : 1407 = 1987)

ترجمہ:   حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:  جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز کی حالت میں  جب تم میں سے کسی کے سامنے  کوئی چیز گزرے، تواس کو روکو، اگر وہ باز نہ آئے تو پھر اس کو روکو، اگر  وہ باز نہ آئے تو اس سے لڑو؛ کیونکہ وہ شیطان ہے۔

روکنے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر  کوئی شخص سامنے سے گزر رہا ہو تو نمازی بلند آواز سےتسبیح (سبحان اللہ)کہے،  یا قرات کرتے ہوئے آواز ذرا اونچا کرے،اور   اگر بہت قریب ہو تو ہاتھ آگے پھیلائے؛ تاکہ اس کو تنبیہ ہو اور وہ رک جائے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(ويدفعه) هو رخصة، فتركه أفضل. بدائع. قال الباقاني: فلو ضربه فمات لا شيء عليه عند الشافعي - رضي الله عنه -، خلافا لنا على ما يفهم من كتبنا (بتسبيح) أو جهر بقراءة (أو إشارة)، ولا يزاد عليها عندنا قهستاني.

(قوله: أو إشارة) أي: باليد أو الرأس أو العين بحر (قوله: ولا يزاد عليها) أي: على الإشارة بما ذكر، فلا يدرأ بأخذ الثوب ولا بالضرب الوجيع كما في القهستاني عن التمرتاشي". 

(رد المحتار على الدر المختار: كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة ومايكره فيها (1/ 637)، ط. سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144501102413

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں